Nawaiwaqt:
2026-06-03@02:33:19 GMT
حکومت کا سمندر پار پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کا نوٹس، بڑا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کی رپورٹ کے بعد 7 دن میں فیصلے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے جائیدادوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور کسی کو بھی ان کے اثاثوں پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات پر 7 دن کے اندر فیصلے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جاتا ہے اور ہم انہیں محفوظ سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کریں گے۔ ان کے اثاثوں کے 100 فیصد تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شفاف اور فوری کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔