Express News:
2026-07-24@03:38:49 GMT

معاشی استحکام کی جھلک اور درپیش چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

اسٹیٹ بینک نے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگلے ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گی۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق درآمدات میں اضافے سے تجارتی خسارہ بڑھا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہا، زرمبادلہ کے ذخائر 16.1 ارب ڈالر، جون تک 18 ارب ڈالر سے تجاوز کی توقع ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جون 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔

ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر اگر سنجیدہ، غیر جذباتی اور تحقیقی نظر ڈالی جائے تو تصویر سادہ سیاہ یا سفید کے بجائے مختلف رنگوں میں بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو 10.

5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بظاہر استحکام کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور حکومتی حلقے اسے اس بات کا ثبوت قرار دے رہے ہیں کہ معیشت مشکل مرحلے سے نکل کر بتدریج سنبھل رہی ہے، گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی معیشت شدید دباؤ کا شکار رہی۔ بلند افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا دباؤ، روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ اور کاروباری سرگرمیوں کی سست روی نے عوامی زندگی کو براہ راست متاثر کیا۔

ایسے پس منظر میں اگر افراط زر کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں آنے، زرمبادلہ کے ذخائر کے 16 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے اور جون تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع کو دیکھا جائے تو بلاشبہ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہی معیشت چند سال قبل بھی اعداد و شمار کے اعتبار سے بہتر دکھائی دیتی تھی، مگر اندرونی کمزوریاں برقرار رہنے کے باعث کسی بھی بیرونی جھٹکے نے اسے دوبارہ بحران کی طرف دھکیل دیا۔

شرح سود کا دس اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رہنا ایک محتاط فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر میں مہنگائی 5.6 فیصد رہی اور بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد پر مستحکم ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار ماضی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، مگر یہ کمی عام آدمی کے لیے کتنی معنی رکھتی ہے، اس پر سوال برقرار ہے۔ مہنگائی کے اعداد و شمار میں کمی اس وقت عوامی ریلیف میں بدلتی ہے جب تنخواہیں، اجرتیں اور روزگار کے مواقعے اسی رفتار سے بڑھیں، جب کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ نجی شعبے میں اجرتوں کا جمود اور سرکاری ملازمین کی محدود تنخواہی ایڈجسٹمنٹ مہنگائی کے اثرات کو مکمل طور پر زائل نہیں کر سکی۔

نجی شعبے کے قرضوں میں 578 ارب روپے کا اضافہ ایک مثبت معاشی سرگرمی کی علامت ضرور ہے، مگر اس کے اندرونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ قرضوں کا بڑا حصہ بڑے کارپوریٹ اداروں اور مخصوص شعبوں تک محدود ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جو پاکستان میں روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اب بھی بلند شرح سود، توانائی کے مہنگے نرخوں، خام مال کی قیمتوں اور پیچیدہ ٹیکس نظام کے باعث دباؤ میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ معاشی نمو کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، مگر بے روزگاری میں نمایاں کمی نظر نہیں آ رہی۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے بینکوں کے لیے کیش ریزرو ریشو 6 سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کا فیصلہ بظاہر مالیاتی نرمی کا عندیہ ہے، مگر یہاں مالیاتی اور مالی پالیسی کے درمیان تضاد نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک طرف اسٹیٹ بینک معیشت میں لیکویڈیٹی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے ٹیکسوں اور بالواسطہ محصولات پر انحصار بڑھا رہی ہے، جس سے صارفین اور کاروبار دونوں پر دباؤ پڑتا ہے۔

یہ تضاد معاشی بحالی کی رفتار کو محدود کر دیتا ہے۔ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں 329 ارب روپے کا شارٹ فال اس بات کی علامت ہے کہ مالیاتی اصلاحات اب بھی ادھوری ہیں۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے وہی روایتی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جس میں پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی شعبوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور ٹیکس کلچر کمزور رہتا ہے۔ جب تک زراعت، ریئل اسٹیٹ اور بڑے غیر رسمی شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کیا جاتا، مالی استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی معاشی صورتحال کو الگ تھلگ ہو کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی سطح پر بلند شرح سود، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی طلب میں سست روی ترقی پذیر ممالک کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا فریم ورک ایک طرف فوری مالیاتی نظم و ضبط فراہم کرتا ہے، تو دوسری طرف سخت شرائط کے باعث عوامی سطح پر مشکلات میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ سبسڈیز میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مالیاتی سختی کا بوجھ بالآخر عام صارف پر ہی پڑتا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معیشت کو قلیل مدت میں مستحکم کرنا ممکن ہو جاتا ہے، مگر طویل مدت میں پائیدار ترقی کے لیے مقامی پالیسی ملکیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آئی ایم ایف پروگراموں سے نکلنے کے بعد اگر اصلاحات کا عمل رک جائے تو معیشت دوبارہ اسی دائرے میں پھنس جاتی ہے۔ اس لیے موجودہ استحکام کو ایک موقع سمجھتے ہوئے ساختی کمزوریوں کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رواں مالی سال میں معاشی نمو کے 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع خوش آئند ضرور ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ گزشتہ سال نمو کی شرح کمزور تھی۔ آٹو سیلز، سیمنٹ، پی او ایل مصنوعات، کھاد اور مشینری کی درآمدات میں اضافہ صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے، مگر درآمدات پر مبنی نمو اپنے اندر خطرات بھی رکھتی ہے۔ اگر برآمدات میں متناسب اضافہ نہ ہوا تو تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دوبارہ دباؤ میں آ سکتا ہے۔

درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث دسمبر 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 244 ملین ڈالر رہا اور پہلی ششماہی میں مجموعی خسارہ 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اگرچہ ترسیلات زر اور آئی سی ٹی برآمدات نے صورتحال کو قابو میں رکھا، مگر یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان کی برآمدی بنیاد اب بھی محدود ہے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں میں مسابقتی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس سے معیشت کی لچک کمزور رہتی ہے۔

صوبائی معیشتوں کا جائزہ لیا جائے تو ترقی کا عمل غیر متوازن دکھائی دیتا ہے۔ بڑے شہروں اور صنعتی مراکز میں کچھ سرگرمی نظر آتی ہے، مگر دیہی علاقوں اور پسماندہ صوبوں میں غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی برقرار ہے۔ زرعی شعبہ، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اب بھی پالیسی توجہ کا متقاضی ہے۔ گندم کی فصل کے حوصلہ افزا امکانات خوش آئند ہیں، مگر کسان کو درپیش مسائل جیسے مہنگی کھاد، بجلی اور ڈیزل کی قیمتیں، پانی کی قلت اور منڈی تک رسائی، پیداوار کے فوائد کو کم کر دیتے ہیں۔ زرعی اصلاحات کے بغیر خوراک کی قیمتوں میں استحکام اور دیہی غربت میں کمی ممکن نہیں۔

 معاشی استحکام کے باوجود عوامی اضطراب کم نہیں ہوا۔ مہنگائی کی رفتار کم ہونے کے باوجود قیمتوں کی مجموعی سطح بلند ہے، جس نے متوسط طبقے کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ تعلیم اور صحت کے اخراجات میں اضافہ، رہائش کے بڑھتے ہوئے مسائل اور آمدن میں جمود نے سماجی ناہمواری کو بڑھایا ہے۔ سماجی تحفظ کے پروگرام اگرچہ موجود ہیں، مگر ان کی رسائی اور موثریت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔بے روزگاری اور نوجوانوں کے لیے محدود مواقع ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ معاشی نمو اس وقت بامعنی ہوتی ہے جب وہ روزگار پیدا کرے۔ اگر ترقی صرف سرمایہ جاتی یا درآمدی شعبوں تک محدود رہے اور لیبر انٹینسیو صنعتیں فروغ نہ پائیں تو سماجی دباؤ میں کمی نہیں آتی۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر حکومتی معاشی پالیسی کو خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

ملکی معیشت اس وقت ایک نازک مگر اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ درست سمت میں مستقل اور جرات مندانہ فیصلے اسے پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں، جب کہ غفلت یا وقتی مفادات پر مبنی پالیسیاں اسے دوبارہ بحران کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ عام شہری اپنی زندگی میں کیا تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ جب تک مہنگائی واقعی قابل برداشت نہ ہو، روزگار کے مواقع وسیع پیمانے پر پیدا نہ ہوں اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف نہ ملے، اس وقت تک معیشت کے سنبھلنے کے دعوے مکمل اور قابلِ قبول نہیں سمجھے جا سکتے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زرمبادلہ کے ذخائر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قیمتوں میں اسٹیٹ بینک پاکستان کی کی قیمتوں میں اضافہ درا مدات برا مدات مدات میں ارب ڈالر کی معیشت کرتا ہے کی توقع جاتا ہے کے باعث جائے تو مگر یہ اب بھی کے لیے

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار