ٹرمپ انتظامیہ کا منی سوٹا سے امیگریشن اہلکاروں کو بلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا بھر میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹس کیخلاف عوامی احتجاج رنگ لے آیا ٹرمپ انتظامیہ نے منی سوٹا مظاہرین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق منی سوٹا میں تعینات آئس (آئی سی ای) کے کمانڈرز اور ان کے ایجنٹوں کو منیا پولس سے واپس بلانے کے احکامات جاری کردیے گئے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ منی سوٹا کے گورنر ٹم والز سے ان کی ٹیلی فونک گفتگو مثبت رہی ہے، ہماری ٹیم حالیہ واقعات کا جائزہ لے رہی ہے۔ دوسری جانب منی سوٹا کی انتظامیہ نے ٹرمپ کے امیگریشن انفورسمنٹ کریک ڈاؤن کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ عدالت آئندہ سماعت پر آپریشن جاری رکھنے یا معطل کرنے کا فیصلہ سنائے گی۔ منیاپولس میں شہری کی ہلاکت پر نیویارک میں ہزاروں افراد نے فیڈرل ایجنٹس کے کیخلاف شدید احتجاج کیا تھا۔ مین ہٹن میں مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے لیے نعرے لگائے اور امیگریشن اہلکاروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی سینئر کمانڈر گریگ بووینو اور ان کی زیرِ قیادت اہلکاروں کے منگل تک منی ایپلس چھوڑنے کا امکان ہے۔ بارڈر پٹرول کمانڈر گریگ بووینو کی روانگی ایسے وقت متوقع ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے بارڈر زار ٹام ہومن کو منی سوٹا بھیج دیا ہے۔ وہ اس آپریشن کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کے مجاز نہیں ہیں، اسی لیے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔یاد رہے کہ 37 سالہ آئی سی یو نرس الیکس پریٹی کی بارڈر پٹرول اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منی سوٹا
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔