مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: حیدرآباد اور بلوچستان کے علاقے قلعہ سیف اللہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق قلعہ سیف اللہ میں زلزلے کی شدت 3.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ حیدرآباد میں 3.4 شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے۔ زلزلے کی گہرائی 16 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز مسلم باغ سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
زلزلے کے بعد شہری گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے، تاہم صورتحال معمول پر رہی۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ وہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پیر کے روز بھی بلوچستان کے علاقے دالبندین اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔