بلوچستان میں گیس کی اہم دریافت، ملکی توانائی میں نمایاں پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کوئٹہ:
ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی وژن کے تحت پاکستان توانائی شعبے میں مقامی پیداوار بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی سمت مستقل پیش قدمی کر رہا ہے۔
ماری انرجیز لمیٹڈ نے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع کلچس ساؤتھ بلاک کے تبری-1 کنویں میں کامیاب گیس دریافت کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
یہ کلچس ساؤتھ بلاک میں پہلا کامیاب کنواں ہے، جو قومی سطح پر گیس کی پیداوار میں اضافے کے لیے ایک حوصلہ افزا سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ تبری-1 کنواں گزشتہ برس کھودا گیا اور اسے 7,170 فٹ کی گہرائی تک ڈرل کیا گیا۔
ابتدائی ٹیسٹنگ کے نتائج کے مطابق کنویں سے یومیہ 11 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک گیس کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے، کنویں کی مکمل پیداواری صلاحیت جانچنے کے لیے مزید ٹیسٹنگ اور تجزیاتی عمل جاری ہے۔
یہ دریافت مقامی گیس پیداوار میں اضافہ، درآمدی انحصار میں کمی اور قومی توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس منصوبے میں یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ بطور آپریٹر شامل ہے، جبکہ ماری انرجیز لمیٹڈ اور دیوان پیٹرولیم بھی جوائنٹ وینچر کا حصہ ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کے ہائیڈرو کاربن وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے اور مقامی توانائی صلاحیت میں اضافے کے عزم کی واضح عکاس ہے۔
ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے بلوچستان میں توانائی کی یہ دریافت ملکی توانائی تحفظ، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔