سائنسدانوں نے یونان میں ایک جھیل کے کنارے سے لکڑی کے ایسے اوزار دریافت کیے ہیں جو اب تک ملنے والے قدیم ترین لکڑی کے اوزار قرار دیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قدیم ترین فن پارے: انڈونیشیا میں 68 ہزار سال پرانی پینٹنگ دریافت

ماہرین کے مطابق یہ نوادرات تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سال پرانے ہیں۔

تحقیق کے مطابق دریافت ہونے والے اوزاروں میں ایک پتلا لکڑی کا ڈنڈا شامل ہے جس کی لمبائی تقریباً ڈھائی فٹ ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے کیچڑ یا زمین کھودنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہوگا۔

دوسرا اوزار نسبتاً چھوٹا ہے جو ولو یا پاپلر کے درخت کی لکڑی سے بنا ہوا معلوم ہوتا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اسے پتھر کے اوزار بنانے یا تراشنے میں استعمال کیا گیا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم انسان پتھر، ہڈی اور لکڑی کے مختلف اوزار استعمال کرتے تھے تاہم لکڑی کے اوزار وقت کے ساتھ گل سڑ جانے کی وجہ سے شاذ و نادر ہی محفوظ رہ پاتے ہیں۔ ایسے اوزار عموماً برف، غاروں یا پانی کے اندر جیسے مخصوص ماحول میں ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

یہ نئے اوزار یونان کے علاقے میگالوپولس بیسن میں دریافت ہوئے جہاں امکان ہے کہ وہ مٹی کے نیچے جلد دب گئے اور نم ماحول کی وجہ سے محفوظ رہے۔

اس مقام سے اس سے قبل بھی پتھر کے اوزار اور ہاتھیوں کی ہڈیاں ملی تھیں جن پر کٹاؤ کے نشانات موجود ہیں۔

مزید پڑھیے: ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیے

اگرچہ لکڑی کے اوزاروں کی براہ راست تاریخ معلوم نہیں کی جا سکی تاہم جس مقام سے یہ ملے وہ تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سال قدیم ہے، جس سے ان اوزاروں کی عمر کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

تحقیق کی مصنفہ اور یونیورسٹی آف ریڈنگ سے وابستہ اینیمیکے ملکس کا کہنا ہے کہ ان اشیا کو ہاتھ میں لینا ہی میرے لیے ایک ناقابل یقین تجربہ ہے۔

ابھی تک اس مقام سے انسانی باقیات دریافت نہیں ہو سکیں اس لیے یہ واضح نہیں کہ یہ اوزار کس نے استعمال کیے۔

ماہرین کے مطابق یہ اوزار نینڈرتهال انسانوں، ابتدائی انسانی آباؤ اجداد یا کسی اور قدیم نسل سے تعلق رکھتے ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیڈرلینڈز نے مصر کو 3 ہزار 500 سال قدیم مجسمہ واپس کرنے کا اعلان کردیا

اسمتھسونین نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ماہر آثار قدیمہ جیرڈ ہٹسن کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ماضی کے مزید قیمتی شواہد موجود ہو سکتے ہیں تاہم یہ دونوں اوزار بظاہر سادہ ہونے کے باعث ان کی تشریح کرنا مشکل ہے۔

ان کے مطابق یہ فوراً لکڑی کے اوزار محسوس نہیں ہوتے اور ہمیں یقین سے نہیں معلوم کہ انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

ماضی میں بھی جرمنی سے لکڑی کے قدیم نیزے اور چین سے تقریباً 3 لاکھ سال پرانے کھدائی کے اوزار دریافت ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تبوک: سعودی عرب میں جزیرہ عرب کی قدیم ترین بستی کا انکشاف

ماہرین کا کہنا ہے کہ یونان سے ملنے والی یہ نئی دریافت قدیم انسانوں کی ٹیکنالوجی کے ایک کم معلوم پہلو پر روشنی ڈالتی ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ بقا کے لیے کس طرح کے اوزار استعمال کرتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قدیم اوزار لاکھوں سال پرانے اوزار لکڑی کے اوزار یونان یونان میں قدیم اوزار دریافت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قدیم اوزار لاکھوں سال پرانے اوزار لکڑی کے اوزار یونان یونان میں قدیم اوزار دریافت لکڑی کے اوزار کا کہنا ہے کہ اوزار دریافت کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم