اسلام ٹائمز: پاکستان کے لیے فلسطین کا مسئلہ محض خارجہ پالیسی کا ایک باب نہیں، بلکہ نظریاتی اور اخلاقی مؤقف کا حصہ ہے۔ جس طرح کشمیر میں حق خودارادیت کا اصولی مؤقف پاکستان نہیں چھوڑ سکتا، اسی طرح فلسطین کے مسئلے پر بھی خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ سینیٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایسے کسی فورم میں شمولیت کی مخالفت اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر بھی اس پلیٹ فارم پر تحفظات موجود ہیں۔ عوامی سطح پر بھی قائداعظم کے فلسطین سے متعلق واضح مؤقف کی حمایت پائی جاتی ہے۔ تحریر: سید انجم رضا

دنیا میں جب بھی کسی بڑے انسانی المیے کو "امن منصوبہ" کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے تو پہلا سوال نیت پر اٹھتا ہے، طریقہ کار پر نہیں۔ غزہ کے تناظر میں سامنے آنے والا نام نہاد "غزہ امن بورڈ" بھی اسی سوال کے گرد گھومتا نظر آتا ہے: کیا یہ واقعی امن کی سنجیدہ کوشش ہے یا طاقتور حلقوں کے مفادات کا نیا پلیٹ فارم۔؟ امن یا کاروباری ذہنیت۔؟ اس بورڈ کے خدوخال اور پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ کسی غیر جانبدار انسانی مشن کے بجائے طاقتور سیاسی و معاشی حلقوں کی سوچ کا تسلسل ہے۔ امریکی سیاست، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے جڑی ہوئی سفارت کاری، اکثر "ڈیل میکنگ" یعنی سودے بازی کے انداز میں سامنے آئی۔

ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ: کیا جنگ زدہ خطے کے انسانی مسئلے کو بھی کارپوریٹ انداز میں "پروجیکٹ" بنا دیا گیا ہے۔؟ جب امن کی بات کے ساتھ ساتھ حماس اور غزہ کو "تہ تیغ کرنے" جیسی زبان سنائی دے، تو یہ تضاد واضح ہو جاتا ہے۔ امن کی بنیاد مکالمہ ہوتا ہے، دھمکی نہیں۔ جنگ کے ذریعے امن حاصل کرنے کا نظریہ تاریخ میں بارہا ناکام ہوچکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مقابل متبادل فورم؟
عالمی مبصرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز دراصل اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو بائی پاس کرنے کی کوشش ہوتے ہیں۔ اگر ہر طاقتور بلاک اپنا الگ "امن بورڈ" بنائے گا تو پھر عالمی قانون، اجتماعی فیصلے اور اقوام متحدہ کی حیثیت کہاں کھڑی ہوگی۔؟ یہ صورت حال سرد جنگ کے نظریاتی دور سے مختلف ہے۔ اس وقت دنیا نظریات میں تقسیم تھی، آج مفادات میں بٹی ہوئی ہے۔ اب "امن" بھی جیوپولیٹیکل مفاد کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔

اسرائیل کا مفاد اور امریکی پالیسی
یہ سوال دہائیوں سے موجود ہے کہ امریکہ اسرائیل کے تحفظ کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون کیوں بنائے ہوئے ہے۔ غزہ کے حالیہ حالات میں بھی یہی تاثر ابھرتا ہے کہ: جنگ بندی کے باوجود حملے جاری رہیں گے، شہری آبادی متاثر ہوتی رہے گی، مگر عالمی سطح پر طاقتور حلقے اسے نظر انداز کریں تو پھر ایسے میں "امن بورڈ" کی ساکھ خود بخود مشکوک ہو جاتی ہے۔ اگر مظلوم کی چیخ سنائی نہیں دیتی تو امن کی بات محض بیانیہ رہ جاتی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم اور امن کا سیاسی تھیٹر
ورلڈ اکنامک فورم جیسے معاشی پلیٹ فارم کے سائے میں ایسے کسی "امن بورڈ" کا قیام یہ تاثر دیتا ہے کہ انسانی بحران کو بھی عالمی پاور اسٹرکچر کے ایجنڈے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ: کیا امن بھی اب جیو اکنامکس کا حصہ بن چکا ہے۔؟

پاکستان کا مؤقف، فلسطین اور کشمیر کا ربط
پاکستان کے لیے فلسطین کا مسئلہ محض خارجہ پالیسی کا ایک باب نہیں، بلکہ نظریاتی اور اخلاقی مؤقف کا حصہ ہے۔ جس طرح کشمیر میں حق خودارادیت کا اصولی مؤقف پاکستان نہیں چھوڑ سکتا، اسی طرح فلسطین کے مسئلے پر بھی خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ سینیٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایسے کسی فورم میں شمولیت کی مخالفت اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر بھی اس پلیٹ فارم پر تحفظات موجود ہیں۔ عوامی سطح پر بھی قائداعظم کے فلسطین سے متعلق واضح مؤقف کی حمایت پائی جاتی ہے۔

اصل سوال، کیا اس سے امن آئے گا؟
وفاقی حکومت چاہے سفارتی توازن کی خاطر کوئی موقف اختیار کرے، مگر بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا ایسا فورم، جو طاقت کے زیر اثر ہو، واقعی پائیدار امن لا سکتا ہے۔؟ امن صرف اس وقت آتا ہے جب: انصاف ہو، طاقت کا یکطرفہ استعمال رکے، مقامی فریقوں کو حقیقی نمائندگی ملے۔ اگر غزہ کے اصل فریق ہی میز پر نہ ہوں اور فیصلے طاقتور دارالحکومتوں میں ہوں، تو یہ امن نہیں، انتظام ہوتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا انتظام دیرپا نہیں ہوتا۔

پاکستان کے لئے چیلنج کیا ہے؟
نام نہاد غزہ امن بورڈ بظاہر امن کا عنوان رکھتا ہے، مگر اس کے گرد موجود سیاسی، سفارتی اور معاشی اشارے اسے ایک سیاسی اسٹیج کے زیادہ قریب دکھاتے ہیں۔ یہ کوشش اقوام متحدہ کے اجتماعی نظام کے مقابل ایک متبادل پاور پلیٹ فارم بھی محسوس ہوتی ہے، جہاں "امن" بیانیہ ہے اور مفاد اصل محرک۔ پاکستان کے لیے چیلنج یہی ہے کہ وہ: اصولی مؤقف بھی برقرار رکھے، سفارتی تنہائی سے بھی بچے اور تاریخ میں مظلوم کے ساتھ کھڑا نظر آئے، کیونکہ بعض فیصلے وقتی سفارت کاری سے نہیں، تاریخ کے میزان سے تولے جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاکستان کے پلیٹ فارم جاتی ہے پر بھی امن کی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف