پشین، سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران 2 ثالثی بھی مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پولیس کا موقف ہے کہ ثالثی کیلئے جانیوالوں میں سے چار افراد واپس آ گئے تھے، جبکہ دو افراد دہشتگردوں کیساتھ ہی بیٹھ گئے۔ جو بعد میں فائرنگ کے دوران مارے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ دو ثالثین کے بھی مارے جانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ کارروائی کے دوران سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے مارے جانے والے سید محمد رحیم کے بیٹے محمد سلیمان نے بتایا کہ ان کے والد محمد رحیم اور والد کے ماموں محمد قدیم اہل علاقہ کی اصرار پر ثالثی کیلئے دہشتگردوں کے پاس گئے تھے۔ جنہیں سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کے ہمراہ مار دیا۔ اس حوالے سے پولیس کا موقف ہے کہ ثالثی کے لئے جانیوالوں میں سے چار افراد واپس آ گئے تھے، جبکہ دو افراد دہشتگردوں کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔ اب کوئی فورسز شخص دہشتگردوں کے ساتھ بیٹھ کر فائرنگ کر رہا ہے تو کارروائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے دو ثالثی کو ضمانت کے طور پر اپنے پاس رکھا تھا، تاکہ فورسز فائرنگ کرکے انہیں ہلاک نہ کر دیں۔ جبکہ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ثالثی اپنی مرضی سے رکھے تھے اور دہشتگردوں کو فورسز کے سامنے سرینڈر کروا رہے تھے۔ انکا یہ بھی دعویٰ ہے کہ دہشتگرد سرینڈر کرنے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے، فورسز نے پھر بھی انہیں ہلاک کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دہشتگردوں کے کارروائی کے کے دوران سی ٹی ڈی گئے تھے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔