گوادر: وفاقی وزیر منصوبہ بندی کے مطابق شہر عالمی تجارتی مرکز بنتا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
گوادر میں سیمینار اور ایگزیبیشن ’’گوادر جدید ساحلی شہر 2026‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال مہمانِ خصوصی تھے۔
سیمینار میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، پالیسی سازوں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور گوادر کے صنعتی، تجارتی اور سیاحتی امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفاقی وزیر پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ پاکستان کو عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے والا ایک اسٹریٹجک راستہ بنتا جا رہا ہے اور حکومت شہر کو جدید بندرگاہی شہر میں تبدیل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ گوادر علاقائی تجارت، بندرگاہی معیشت اور عالمی رابطہ کاری کا ایک اہم مرکز بن رہا ہے۔ ایم ڈی پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آفتاب الرحمٰن رانا نے کہا کہ گوادر کے سیاحتی امکانات بھی مستقبل میں ملک کی ٹورازم انڈسٹری کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد جمیل احمد نے پورٹ میں علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کے مرکز بننے کی صلاحیت پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے صنعتی ترقی اور اسپیشل اکنامک زونز کے منصوبوں کو ملکی معیشت کے لیے اہم قرار دیا۔ ڈین نسٹ یونیورسٹی ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے مقامی آبادی کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
شرکاء نے گوادر سیمینار 2026 کو پاکستان کی قومی معیشتی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور گوادر کو ملک کے مستقبل کے صنعتی و تجارتی ہب کے طور پر ترقی دینے پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔