پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا عزم، حکومت اور چیمبر آف کامرس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
حکومت اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے درمیان اڑان پاکستان پروگرام کے تحت معاشی اہداف کے حصول کے لیے تعاون کے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرلیے گئے۔
ایم او یو پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے دستخط کیے۔
مزید پڑھیں: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا
معاہدے کی تقریب میں صدر اسلام آباد چیمبر سردار طاہر، نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارو جدون، چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین سمیت دیگر شرکا موجود تھے۔
ایم او یو کے تحت 2047 تک پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے حکومتی ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت اور صنعت مل کر کام کریں گے۔
اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کے فروغ کے لیے حکومت اور انڈسٹری کے مابین تعاون بڑھایا جائے گا، جبکہ حکومتی معاشی ویژن پر عملدرآمد اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے بھی باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا اور عدم استحکام کے باعث ملک 10 روز قبل ہی انٹرنل ڈیفالٹ کر چکا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مزید چند ہفتے گزر جاتے تو ملک ایکسٹرنل طور پر بھی ڈیفالٹ کر جاتا۔
احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکال کر استحکام کی طرف لے آئی ہے اور آج دنیا کے تمام بڑے ادارے پاکستان کی معاشی بحالی کا اعتراف کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کو سراہا جا رہا ہے، تاہم ملک کے اندر سیاسی مقاصد کے لیے تنقید کی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے اور ہمیں اپنی معیشت کو ایکسپورٹ پر مبنی معیشت بنانا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے ہر ضلع کے لیے الگ الگ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ پلان تشکیل دیا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہاکہ پاک فوج نے ہمیں معرکہ حق جیت کر دیا، اب ہمیں معرکہ ترقی جیتنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملک کو سیاسی لانگ مارچ نہیں بلکہ اقتصادی لانگ مارچ کی ضرورت ہے اور ملک میں فتنہ و فساد کی سیاست کرنے والوں کو رد کرنا ہوگا۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہاکہ اڑان پاکستان پروگرام پائیدار ترقی، برآمدات میں اضافے اور معاشی بحالی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معاشی ترقی کا روڈ میپ ہے اور بزنس کمیونٹی کے تعاون کی بدولت حکومت ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے، خواجہ آصف کا اظہار اطمینان
عاطف اکرام شیخ نے کہاکہ معیشت کی پائیدار ترقی صنعتوں کی بحالی سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ہم نے اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو دھول چٹائی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دنیا بھر میں پذیرائی ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قیادت میں معاشی استحکام آ چکا ہے، اب ملک کو معاشی ترقی کی جانب لے جانا ہوگا۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہاکہ انڈسٹری کی بحالی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، بجلی کی قیمت 8 سینٹ، ٹیکسز میں کمی اور شرح سود کو 7 فیصد پر لایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
3 ٹریلین ڈالر wenews احسن اقبال چیمبر آف کامرس مفاہمتی یادداشت ملکی معیشت وفاقی وزیر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 3 ٹریلین ڈالر احسن اقبال چیمبر ا ف کامرس مفاہمتی یادداشت ملکی معیشت وفاقی وزیر وی نیوز اڑان پاکستان پروگرام صدر ایف پی سی سی آئی ملکی معیشت احسن اقبال وفاقی وزیر حکومت اور انہوں نے نے کہاکہ کی معیشت ہے اور کے لیے ملک کو
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند