بحری بیڑہ آمد، امید ہے ایران ہم سے ڈیل کر لیگا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
آئیوا :(ویب ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔امید ہے ایران ہم سے ڈیل کر لے گا۔
آئیوا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایک اور بحری بیڑہ مشر ق وسطی کی جانب گامزن ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ میری حکومت نے امریکی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ بنا دی ہیں۔ امریکہ کو سرمایہ کاری کے لحاظ سے نمبر ون ملک بنا دیا۔ امریکہ میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج امریکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، منہگائی کم ہے۔ سرحدوں کو غیر قانونی تارکین وطن کیلئے مکمل بند کر دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فرانس نے قیمتیں کم کرنے سے انکار کیا تو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی۔فرانسیسی صدر نے فوراً ہماری بات مان لی۔ سرحدوں کوغیرقانونی تارکین وطن کیلئے مکمل بند کر دیا ہے۔ امریکہ کی جتنی عزت اب دنیا میں ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین امریکہ سے 40 ارب ڈالر کا سویا بین خریدنے پر تیار ہو گیا ہے۔ ہم نے اپنے کسانوں کو 12 ارب ڈالر کا پیکج ٹیرف کے پیسوں سے دیا۔
انہوں دعویٰ کیا کہ جاپان، برطانیہ اور آسٹریلیا امریکہ میں تاریخی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں آئیوا مڈ ٹرم الیکشن مہم شروع کرنے آیا ہوں۔ اگر ہم وسط مدتی انتخابات ہار گئے تو امریکہ بہت کچھ کھو دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔