آئیوا :(ویب ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔امید ہے ایران ہم سے ڈیل کر لے گا۔

آئیوا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایک اور بحری بیڑہ مشر ق وسطی کی جانب گامزن ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ میری حکومت نے امریکی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ بنا دی ہیں۔ امریکہ کو سرمایہ کاری کے لحاظ سے نمبر ون ملک بنا دیا۔ امریکہ میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج امریکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، منہگائی کم ہے۔ سرحدوں کو غیر قانونی تارکین وطن کیلئے مکمل بند کر دیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فرانس نے قیمتیں کم کرنے سے انکار کیا تو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی۔فرانسیسی صدر نے فوراً ہماری بات مان لی۔ سرحدوں کوغیرقانونی تارکین وطن کیلئے مکمل بند کر دیا ہے۔ امریکہ کی جتنی عزت اب دنیا میں ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین امریکہ سے 40 ارب ڈالر کا سویا بین خریدنے پر تیار ہو گیا ہے۔ ہم نے اپنے کسانوں کو 12 ارب ڈالر کا پیکج ٹیرف کے پیسوں سے دیا۔

انہوں دعویٰ کیا کہ جاپان، برطانیہ اور آسٹریلیا امریکہ میں تاریخی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں آئیوا مڈ ٹرم الیکشن مہم شروع کرنے آیا ہوں۔ اگر ہم وسط مدتی انتخابات ہار گئے تو امریکہ بہت کچھ کھو دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل