سعودی عرب میں الباحہ  ونٹر فیسٹیول میں ونٹر کیمپس اوپن ایریاز، پبلک پارکس اور دیہی فارمز خاندانی اجتماعات کا مرکز بن گئے

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ کیمپ، جو الباحہ  ریجن کے معتدل موسم اور پہاڑی مناظر سے بھرپور ہیں، سردیوں کے موسم میں خاندانی اجتماعات اور سماجی تقریبات کے لیے مقبول مقام بن گئے ہیں۔ روایتی خیموں کے ساتھ سجائے گئے اصل ڈیزائن اور رنگوں سے مزین یہ کیمپ کئی مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے شہر القطیف میں اسٹریٹ فوڈ فیسٹیول کا آغاز

یہ کیمپ علاقے کی سماجی وراثت اور ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں اور روایتی طور پر سردیوں کے موسم سے منسلک دیہی طرز زندگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

کیمپ اور اجتماعات سیزنل ٹورزم کو فروغ دیتے ہیں اور قدرت، مقامی مہمان نوازی، روایتی مارکیٹس اور ہینڈی کرافٹس جیسی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

حکام کی نگرانی اور قواعد و ضوابط کے تحت، وزیٹر سیفٹی، بنیادی سہولیات، ماحولیاتی معیارات کی پابندی اور قدرتی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی وادی الاحسبہ قدرتی مناظر کی وجہ سے سیاحوں میں مقبول

فیسٹیول میں 250 سے زائد ایونٹس شامل ہیں اور یہ 40 سے زائد حکومتی اور پرائیویٹ اداروں کی جانب سے منظم کیے گئے ہیں، جو علاقے کی شہرت کو ایک اہم ونٹر ٹورزم ڈیسٹینیشن کے طور پر بڑھاتے ہیں۔

 یہ تقریب رمضان تک جاری رہے گی اور سیاحت، ہیریٹیج اور زرعی سرگرمیوں پر مشتمل پروگرامز میں ملک بھر کے باشندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news الباحہ خاندانی اجتماعات سعودی عرب ونٹر کیمپس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الباحہ خاندانی اجتماعات ونٹر کیمپس

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل