شامی صدر احمد الشرع نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے، جہاں روس شام میں اپنے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب الشرع کو اقتدار سنبھالے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ روس کے سابق اتحادی بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شامی صدر احمد الشرع کا روس کا پہلا دورہ، بشارالاسد کی حوالگی کا مطالبہ متوقع

ملاقات سے قبل نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے شام کے اتحاد کی حمایت پر روس کا شکریہ ادا کیا اور خطے کے استحکام میں روس کے تاریخی کردار کو سراہا۔ ولادیمیر پیوٹن نے شام میں استحکام کے لیے الشرع کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے شام کی علاقائی سالمیت کی بحالی کی پیشرفت پر مبارکباد دی۔

روس اور شام کی نئی قیادت ماضی میں شام کی خانہ جنگی کے دوران ایک دوسرے کے مخالف فریق رہے ہیں، جس کے باعث ماسکو میں شام میں روسی فوجی موجودگی کے مستقبل پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق مذاکرات میں شام میں روسی فوجیوں کی موجودگی پر بھی بات چیت کی گئی، جو فی الحال خمیمیم ایئر بیس اور طرطوس نیول بیس پر تعینات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق روس نے حالیہ دنوں میں کرد کنٹرول شمال مشرقی شام کے شہر قامشلی کے ایئرپورٹ سے اپنی افواج واپس بلا لی ہیں، جس کے بعد بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں واقع 2 اڈے روس کی سابق سوویت یونین سے باہر واحد فوجی تنصیبات رہ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں ابتک کی اہم گرفتاری، بشارالاسد کا بھروسہ مند کزن اور فوجی افسر پکڑا گیا

سیاسی تجزیہ کار سیموئل رامانی کے مطابق ماسکو کو ابتدا میں خدشہ تھا کہ دمشق میں روس مخالف حکومت قائم ہوسکتی ہے، تاہم روسی قیادت کو احمد الشرع کے رویے سے نسبتاً اطمینان ہوا ہے، اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں محدود سطح پر آ چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق احمد الشرع نے عملی اور محتاط خارجہ پالیسی اختیار کی ہے اور امریکا سمیت خطے سے باہر طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سیاسی اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس بھی اس وقت الشرع کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے، اسی لیے دونوں فریق ایک دوسرے سے روابط بڑھا رہے ہیں۔

احمد الشرع نے اکتوبر میں ماسکو کے پہلے دورے کے دوران روس کے کردار کو نرم انداز میں پیش کیا تھا، حالانکہ روس نے دسمبر 2024 میں ملک چھوڑنے والے بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کو پناہ دی تھی۔ الشرع اس کے باوجود بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ کر چکے ہیں اور حالیہ بیان میں کہا تھا کہ سابق صدر کے مظالم کا شکار ہونے والے شامیوں کو انصاف ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بشار الاسد حکومت کا خاتمہ: شام نے روس کے ساتھ طویل المدتی فوجی معاہدہ ختم کردیا

دوسری جانب روس شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے دیگر اتحادیوں کے محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے حالیہ دنوں میں وینزویلا اور ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی بات کی ہے۔

شام کی نئی قیادت نے خارجہ پالیسی کو روس سے ہٹا کر امریکا کی جانب موڑنے کا عندیہ دیا ہے اور اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکا نے حالیہ کشیدگی کے بعد شام میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا، جو اب تک بڑی حد تک برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news روس شام ولادیمیر پیوٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ولادیمیر پیوٹن احمد الشرع نے بشار الاسد کے مطابق کے لیے شام کی روس کے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم