داتا دربار:خاتون اور9 ماہ کی بچی مین ہول میں گرکرلاپتا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
لاہور:لاہور میں داتا دربار کے قریب خاتون اور 9 ماہ کی بچی مین ہول میں گر کر لاپتا ہو گئے۔
داتا دربار کے مرکزی گیٹ کے قریب ماں اپنی 9 ماہ کی بیٹی کے ساتھ کھلے مین ہول میں گر گئی جن کی تلاش کیلیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو 1122 ترجمان کے مطابق بھاٹی گیٹ نزد داتا دربار مین گیٹ کے قریب گٹر میں گرنے کی کال موصول ہوئی، جس پر ایمرجنسی وہیکلز کو جائے حادثہ پر بھیج دیا گیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق کالر نے بتایا کہ ایک خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ گٹر میں گر گئی ہے، جس کے بعد ٹیموں کو بھیج کر تلاش کیلیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے پرندہ مارکیٹ میں کھدائی کے دوران مین ہول بنارکھے تھے، دونوں ماں بیٹی پرندہ مارکیٹ کے قریب سے گزر رہے تھے، مناسب روشنی نہ ہونے کی وجہ سے مین ہول نظر نہیں آیا اور اس میں گر گئے۔
ذرائع کے مطابق خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گرے جس کو کئی مقامات سے ڈھانپا بھی گیا تھا، مین ہول میں گرنے والی خاتون کی شناخت سعدیہ کے نام سے ہوئی جس کے ساتھ 9 ماہ کی بچی بھی تھی۔
واقعے کے بعد پنجاب حکومت کی انتظامیہ کی نااہلی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
سوال کیا جا رہا ہے کہ اس قدر خطرناک مین ہول تک عام شہریوں کی رسائی کو روکنے کےلیے موثر انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مین ہول میں گر داتا دربار کے مطابق کے قریب ماہ کی کی بچی
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔