بدین : قتل کا جرم ثابت، ملزم کو سزائے موت کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین(نمائندہ جسارت)قتل کا جرم ثابت سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج بدین کی جانب سے ملزم محبوب ملاح کو سزائے موت،قاتلانہ حملے اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے جرم میں بھی 3 سال قید اور جرمانہ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کڈھن کی حدود میں ملزم محبوب ملاح نے اپنے گھر کے قریب ٹریکٹر ٹرالی گزرنے کے معاملے پر طیش میں آ کر بغیر لائسنس بندوق سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں عثمان نوتیار جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کا بھائی ذوالفقار علی نوتیار شدید زخمی ہو گیا۔واقعے کے بعد کڈھن پولیس نے مقتول کے والد میر محمد نوتیار کی فریاد پر فوری طور پر ملزم محبوب ملاح کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔اس انتہائی سنگین نوعیت کے مقدمے کی تفتیش انسپکٹر قربان علی ملاح کے سپرد کی گئی، جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت، محنت اور قانونی تقاضوں کے مطابق تفتیش مکمل کی۔تفتیش کے دوران ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والی بغیر لائسنس بندوق برآمد کی گئی، جس کی بنیاد پر ملزم کے خلاف سرکار کی مدعیت میں آرمز ایکٹ کے تحت علیحدہ مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔