سندھی شاعر آکاش انصاری کے قتل کے میں بیٹے کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260129-08-16
حیدر آباد (نمائندہ جسارت) صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کی ایک عدالت نے سندھی زبان کے نامور شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل میں ان کے گود لیے ہوئے بیٹے شاہ لطیف کو سزائے موت سنائی ہے۔حیدرآباد میں یہ قتل 15 فروری 2025 کی رات کو ہوا تھا۔ ڈاکٹر آکاش کی جھلسی ہوئی لاش ان کے فلیٹ سے ملی تھی اور ان کے بیٹے کا موقف تھا کہ یہ موت گھر میں آتشزدگی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آکاش کے جسم پر 12 گہرے زخم پائے گئے جو گردن، سینے، پیٹ اور رانوں پر تھے۔ ان میں سے کئی زخم اتنے گہرے تھے کہ پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کو شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے خون بہت زیادہ بہہ گیا اور ان کی موت واقع ہو گئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے ثبوت چھپانے کے لیے لاش اور بستر پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ اس کے بعد اس نے کمرے کو تالا لگا دیا اور شور مچایا تاکہ یہ ایک حادثاتی آگ لگنے کا واقعہ معلوم ہو۔بی بی سی کے مطابق فیصلے میں بتایا گیا کہ جب ڈرائیور اور دیگر لوگ آگ بجھانے پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ملزم آگ بجھانے میں مدد نہیں کر رہا تھا بلکہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا، جس کے بعد ملزم شاہ کو گرفتار کیا گیا۔ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے ہی والد کو قتل کیا ہے۔ ان کی نشاندہی پر پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والی چھری اور خون آلود کپڑے برآمد کیے تھے۔تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ نے ثابت کیا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تعلقات بیٹے کی منشیات کی لت کی وجہ سے خراب تھے جبکہ ملزم جائیداد اور پیسوں کا مطالبہ کرتا تھا۔ 2024 میں ڈاکٹر آکاش نے اپنے بیٹے کے خلاف تقریباً 38 لاکھ روپے کی چوری کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس کی وجہ سے ملزم غصے میں تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ا کاش کی وجہ سے کے مطابق
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔