سکھر کے دیہی علاقے کپاس بحران کا شکار ہونے لگے
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت)سکھر کے دیہی علاقے کپاس بحران کا شکار ناقص بیج اور مہنگی کھاد کے سبب گنے کی طرف رجحان بڑھ گیا صالح پٹ اور روہڑی میں ناقص بیج اور غیر معیاری زرعی ادویات نے کپاس کی پیداوار متاثر کی مہنگی کھاد اور موسمی تبدیلیوں نے کاشتکاروں کو دیگر فصلوں کی طرف مائل کر دیا گنے کی کاشت میں نمایاں اضافہ،کسانوں اور شوگر ملوں کی مراعات بنیادی وجہ کپاس کی کمی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر دباؤ اور درآمدی روئی پر بڑھتا انحصارتفصیلات کے مطابق اندرونِ سندھ کے زرعی علاقے بالخصوص ضلع سکھر کی تحصیل روہڑی اور سب سے بڑی زرعی تحصیل صالح پٹ میں کپاس کی پیداوار شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے ناقص اور غیر معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی مہنگائی،جعلی زرعی مصنوعات اور بدلتے موسمی حالات نے کپاس کی کاشت کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے زرعی ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے کسانوں اور زمینداروں کو دوسری فصلوں کی طرف مائل کر دیا ہے جس سے کپاس کی پیداوار میں کمی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے ذرائع کے مطابق کپاس کے بیج،کھاد اور زرعی ادویات کی غیر معیاری دستیابی اور مارکیٹ میں جعلی مصنوعات کے پھیلاؤ کی وجہ سے فصل کے ہر مرحلے میں پیداوار متاثر ہو رہی ہے مہنگی کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال کے باوجود کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کم ہو رہی ہے اور فائبر کی کوالٹی بھی گر گئی ہے جس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مطلوب معیار کی مقامی روئی دستیاب نہیں رہی مزید برآں بدلتے موسمی حالات جیسے غیر متوقع بارشیں درجہ حرارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے بھی کپاس کی فصل کو نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں ضلع سکھر کے کسان اور زمیندار کپاس کے بجائے دیگر فصلوں کی طرف مائل ہو گئے ہیں اسی دوران ضلع سکھر اور صالح پٹ کے دیہی علاقوں میں گنے کی کاشت میں نمایاں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے زرعی ماہرین کے مطابق گنے کی طرف رجحان بنیادی طور پر شوگر ملوں کی طرف سے کاشتکاروں کو فراہم کی جانے والی مالی اور زرعی مراعات،کھاد اور ادویات کے آسان انتظامات اور گنے کی مارکیٹ میں بہتر منافع کی توقعات کی وجہ سے بڑھا ہے اس رجحان نے نہ صرف کپاس کے زیرِ کاشت رقبے کو محدود کر دیا ہے بلکہ مقامی کاٹن بیلٹ کی مجموعی پیداوار اور معیار پر بھی منفی اثر ڈالا ہے اعداد و شمار کے مطابق ماضی میں ضلع سکھر میں کپاس کی مجموعی پیداوار معیاری اور وافر تھی لیکن اب یہ پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے کسان اور زمیندار کپاس کے بجائے گنے مکئی اور دیگر اجناس کی کاشت میں دلچسپی لے رہے ہیں جس سے مستقبل میں کپاس کی دستیابی اور معیار پر تشویشناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں زرعی ماہرین اور کاٹن جننگ سیکٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع سکھر کے کاٹن زونز،بالخصوص صالح پٹ اور روہڑی میں کپاس کی کاشت کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زرعی ادویات میں کپاس کی کے مطابق ضلع سکھر اور زرعی کھاد اور کی کاشت صالح پٹ سکھر کے کپاس کے گنے کی کی طرف
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔