Jasarat News:
2026-07-24@13:25:33 GMT

سکھر کے دیہی علاقے کپاس بحران کا شکار ہونے لگے

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت)سکھر کے دیہی علاقے کپاس بحران کا شکار ناقص بیج اور مہنگی کھاد کے سبب گنے کی طرف رجحان بڑھ گیا صالح پٹ اور روہڑی میں ناقص بیج اور غیر معیاری زرعی ادویات نے کپاس کی پیداوار متاثر کی مہنگی کھاد اور موسمی تبدیلیوں نے کاشتکاروں کو دیگر فصلوں کی طرف مائل کر دیا گنے کی کاشت میں نمایاں اضافہ،کسانوں اور شوگر ملوں کی مراعات بنیادی وجہ کپاس کی کمی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر دباؤ اور درآمدی روئی پر بڑھتا انحصارتفصیلات کے مطابق اندرونِ سندھ کے زرعی علاقے بالخصوص ضلع سکھر کی تحصیل روہڑی اور سب سے بڑی زرعی تحصیل صالح پٹ میں کپاس کی پیداوار شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے ناقص اور غیر معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی مہنگائی،جعلی زرعی مصنوعات اور بدلتے موسمی حالات نے کپاس کی کاشت کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے زرعی ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے کسانوں اور زمینداروں کو دوسری فصلوں کی طرف مائل کر دیا ہے جس سے کپاس کی پیداوار میں کمی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے ذرائع کے مطابق کپاس کے بیج،کھاد اور زرعی ادویات کی غیر معیاری دستیابی اور مارکیٹ میں جعلی مصنوعات کے پھیلاؤ کی وجہ سے فصل کے ہر مرحلے میں پیداوار متاثر ہو رہی ہے مہنگی کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال کے باوجود کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کم ہو رہی ہے اور فائبر کی کوالٹی بھی گر گئی ہے جس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مطلوب معیار کی مقامی روئی دستیاب نہیں رہی مزید برآں بدلتے موسمی حالات جیسے غیر متوقع بارشیں درجہ حرارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے بھی کپاس کی فصل کو نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں ضلع سکھر کے کسان اور زمیندار کپاس کے بجائے دیگر فصلوں کی طرف مائل ہو گئے ہیں اسی دوران ضلع سکھر اور صالح پٹ کے دیہی علاقوں میں گنے کی کاشت میں نمایاں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے زرعی ماہرین کے مطابق گنے کی طرف رجحان بنیادی طور پر شوگر ملوں کی طرف سے کاشتکاروں کو فراہم کی جانے والی مالی اور زرعی مراعات،کھاد اور ادویات کے آسان انتظامات اور گنے کی مارکیٹ میں بہتر منافع کی توقعات کی وجہ سے بڑھا ہے اس رجحان نے نہ صرف کپاس کے زیرِ کاشت رقبے کو محدود کر دیا ہے بلکہ مقامی کاٹن بیلٹ کی مجموعی پیداوار اور معیار پر بھی منفی اثر ڈالا ہے اعداد و شمار کے مطابق ماضی میں ضلع سکھر میں کپاس کی مجموعی پیداوار معیاری اور وافر تھی لیکن اب یہ پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے کسان اور زمیندار کپاس کے بجائے گنے مکئی اور دیگر اجناس کی کاشت میں دلچسپی لے رہے ہیں جس سے مستقبل میں کپاس کی دستیابی اور معیار پر تشویشناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں زرعی ماہرین اور کاٹن جننگ سیکٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع سکھر کے کاٹن زونز،بالخصوص صالح پٹ اور روہڑی میں کپاس کی کاشت کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زرعی ادویات میں کپاس کی کے مطابق ضلع سکھر اور زرعی کھاد اور کی کاشت صالح پٹ سکھر کے کپاس کے گنے کی کی طرف

پڑھیں:

آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ