کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی حالیہ آگ نے جہاں جانی اور اربوں روپے کا مالی نقصان کیا، وہیں اس کے گرد کئی سوالات اور تنازعات نے بھی جنم لیا ہے۔ عوامی حلقوں اور متاثرہ تاجروں کی جانب سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ بغیر تحقیق کے یہ اندازہ لگا لیا جائے کہ یہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا پھر کسی کیمیکل کے ذریعے لگائی گئی؟

آگ لگنے کی وجوہات اور تحقیقات

یہ جاننے کے لیے کہ آگ لگنے یا لگانے کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے، ہم نے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ماہر فواد شیروانی سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی آتشزدگی کے واقعے کے بعد اگر یہ الزام لگایا جائے کہ آگ خود نہیں لگی بلکہ لگائی گئی ہے تو اس الزام کے ثبوت بھی دینا ضروری ہوتے ہیں۔ اگر الزام لگانے والا ثبوت فراہم نہیں کرتا تو ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں کی طرح جائے وقوعہ کا باقاعدہ معائنہ کرایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: کمشنر کراچی کی حتمی رپورٹ مکمل، 79 اموات کی تصدیق

کیمیکل اور الیکٹریکل فائر کا فرق

فواد شیروانی کے مطابق اگر آگ الیکٹریکل ہو تو اس کے بعد کیمیکل ایگزامینیشن کرائی جاتی ہے، جس کے ماہرین اور لیبارٹریاں لاہور اور کراچی میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق کے ایم سی اس حوالے سے تکنیکی طور پر خاصی مضبوط ہے، اس کے علاوہ بھی کئی معتبر ماہرین موجود ہیں جنہیں حکومت بخوبی جانتی ہے۔ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد ہی یہ طے ہو سکتا ہے کہ آگ الیکٹریکل تھی یا کسی کیمیکل کے ذریعے لگائی گئی۔

عمارت کے گرنے پر شکوک

فواد شیروانی کا کہنا ہے کہ جس انداز سے عمارت گری ہے، اگر اسے صرف الیکٹریکل فائر قرار دیا جائے تو یہ بات کچھ مشکل نظر آتی ہے۔ تاہم اگر فاسفورس یا کسی اور کیمیکل کا استعمال ہوا ہے تو کیمیکل ایگزامینیشن کرا کے رپورٹ عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے۔

ماضی میں فائر سیفٹی کے انتظامات

فواد شیروانی کے مطابق پورے ایم اے جناح روڈ پر فائر سیفٹی کے لیے خصوصی والز موجود تھے۔ جب عبدالستار افغانی میئر تھے تو اس دور میں پورے بندر روڈ پر واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی لائن بچھائی گئی تھی۔ لال رنگ کے ڈبے نصب کیے گئے تھے جہاں پانی کی لائن کے کنکشن موجود ہوتے تھے۔ چونکہ یہ پورا علاقہ تجارتی تھا، اس لیے کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فائر بریگیڈ کو فوری پانی فراہم کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایسی لائن تھی جس میں 24 گھنٹے پانی موجود رہتا تھا اور واٹر بورڈ اس کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

تاجروں کا ردعمل اور شکوے

حال ہی میں ہونے والے سانحہ گل پلازہ پر تاجر رہنماؤں اور دکانداروں نے پہلے دن سے ہی شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ان کا شکوہ ہے کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ آگ بجھانے والے عملے کے پاس پانی کی کمی تھی اور وہ مناسب آلات سے لیس نہیں تھے۔

میئر کراچی اور دیگر حکام واقعے کے 22 سے 23 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے، جس پر تاجروں نے شدید نعرے بازی بھی کی۔ اس سانحے کے بعد مسلسل کوریج کے دوران وہاں موجود اکثر تاجروں نے وی نیوز کو بتایا کہ اگر ریسکیو حکام انہیں نہ روکتے تو وہ خود بہتر انداز میں کام کر کے شاید قیمتی جانیں بچا لیتے۔

فائر برگیڈ کی رائے

محکمہ فائر برگیڈ کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس نوعیت کی یہ آگ تھی اور گل پلازہ کی کچھ دکانوں کے شٹرز پر نظر آنے والا زنگ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فوری کیمیکل ایگزامینیشن کرائی جائے تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ آگ کیسے لگی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آگ لگنے کے لاتعداد واقعات دیکھے ہیں، اور بجلی سے لگنے والی آگ اور کیمیکل سے لگنے والی آگ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ کیمیکل کی آگ لوہے پر زنگ یا مخصوص رنگ چھوڑ دیتی ہے۔ اصل وجہ کیمیکل ایگزامینیشن کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔

آگ کے تیزی سے پھیلنے پر سوال

گل پلازہ ریسکیو آپریشن میں مصروف کچھ حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے آگ اے سی چیمبر سے اتنی تیزی سے پھیلی ہو، کیونکہ چند منٹوں میں ہی آگ چاروں طرف پھیل گئی جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ عام طور پر آگ اتنی تیزی سے نہیں پھیلتی، اور اگر سامان کی وجہ سے پھیل بھی جائے تو ایک منزل سے دوسری منزل تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے، لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس تھا۔

عینی شاہد کا بیان

دبئی کراکری کے مالک کے بھائی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ان کا رات 10 بج کر 35 منٹ پر اپنے بھتیجے سے رابطہ ہوا، جس نے بتایا کہ گل پلازہ میں آگ لگ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں سے نکل آؤ، مگر اس نے بتایا کہ نکلنا ممکن نہیں کیونکہ آگ بہت شدید ہے، البتہ ہماری دکان میں تھوڑی ہوا آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ آتشزدگی، سرکار کی مدعیت میں درج مقدمہ کی تفصیلات سامنے آگئیں

آگ پھیلنے کی ٹائم لائن

عبدالرحمان کے مطابق اس دکان میں ان کے بھتیجے سمیت دیگر دکاندار اور کچھ گاہک پناہ لینے کے لیے داخل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات 10 بج کر 20 منٹ پر آگ نمبر ایک دکان میں لگی اور پانچ منٹ بعد 140 نمبر دکان تک پہنچ گئی۔ آدھے گھنٹے کے اندر یہ آگ پوری عمارت میں پھیل چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز دبئی کراکری سے انسانی اعضا ہم نے خود نکال کر ریسکیو حکام کے حوالے کیے۔

لاشوں اور باقیات کی صورتحال

گل پلازہ سے اب تک 60 کے قریب لاشیں نکالنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دبئی کراکری سے 25 سے 30 افراد کی ہڈیاں ملی ہیں۔

اس حوالے سے انسانی اعضا کا معائنہ کرنے والی ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سے ملنے والی باقیات اس حد تک جل چکی ہیں کہ ڈی این اے کا حصول تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق آگ کی شدید تپش اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کے باعث ہڈیوں کے اندر موجود ’میڈولری کینال‘ سے ڈی این اے ختم ہو چکا ہے۔

ابتدائی طور پر 6 افراد کی شناخت چہرے سے جبکہ ایک کی شناخت شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی، تاہم دیگر کی شناخت میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اب تک 30 سے زائد باقیات موصول ہو چکی ہیں اور مزید آنے والے اعضا کا معائنہ جاری ہے۔ بعض صورتوں میں صرف جنس، یعنی مرد یا خاتون، کا اندازہ لگانا ہی ممکن ہو سکا ہے۔

آئندہ اقدامات اور حکومتی مؤقف

ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی تیاری کے حوالے سے شہر بھر میں معائنوں کا عمل جاری رہے گا۔ مقررہ وقت میں فائر فائٹنگ آلات اور سیفٹی اقدامات مکمل نہ کرنے پر عمارتوں کو سیل کیا جائے گا۔ کے ایم سی کے سروے میں شامل 266 عمارتوں سمیت دیگر اہم عمارتوں کو فائر سیفٹی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ سندھ نے کورنگی کازوے پل کا افتتاح کردیا، گل پلازہ کے متاثرین کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان

جنوری 2024 میں بھی کے ایم سی کی جانب سے فائر سیفٹی یقینی بنانے کے لیے بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کو ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ فائر سیفٹی کو یقینی بنانا بلڈرز، بلڈنگ اونرز اور یونینز کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ ایس بی سی اے بطور ریگولیٹری اتھارٹی کے ایم سی اور سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر فائر سیفٹی کو یقینی بنا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبدالستار افغانی فائر بریگیڈ فواد شیروانی گل پلازہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عبدالستار افغانی فائر بریگیڈ فواد شیروانی گل پلازہ کا کہنا ہے کہ فواد شیروانی یہ بھی پڑھیں فائر سیفٹی کی جانب سے ان کا کہنا کے ایم سی کے مطابق گل پلازہ بتایا کہ پانی کی روڈ پر کے لیے کے بعد

پڑھیں:

زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........

خاکسار نے پچھلے دنوں اپنی بزمِ زباں فہمی میں احباب سے پوچھا کہ آیا آپ نے یہ کہاوت یا مَثَل سُنی ہے ، ’’میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکار کا پانی؟‘‘ تو پتا چلا کہ اس کہاوت کے کئی رُوپ [versions] ہیں اور یہ فرق غالباً علاقائی بنیاد پر ہے۔

لغات میں یہ تمام رُوپ موجود نہیں، اس لیے تلاش و جستجو کا عمل مزید اہم ہوگیا۔ احباب سے گفتگو میں یہ ضرور پوچھتا گیا کہ آپ کا آبائی تعلق کہاں سے ہے ۔ متعددکا تعلق دِلّی اور یوپی کے دیگر شہروں سے تھا، کچھ کا بِہار سے تو کچھ کا کہیں اور سے۔

اب یہ فہرست اراکین ِ بز م زباں فہمی کی آراء اور بعض دیگر ذرایع سے مرتب کرکے بات آگے بڑھاتا ہوں:

۱)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکارکا پانی؟

ب)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکاری پانی؟

میرے خیال میں ممکن ہے کہ اصل کہاوت ’’سرکار کا پانی‘‘ سے جُڑی ہوئی ہو یعنی ’سرکار‘ بمعنیٰ شوہر۔یا۔حاکم ِ وقت بشمول کوئی نواب، اور یہ دو کنیزوں یا بیویوں کے بیچ ہونے والا مکالمہ ہو جسے کہاوت کی طرح شہر ت مل گئی۔ اسی کی بگڑی ہوئی شکل میں ’’سرکاری پانی‘‘ شامل ہے۔(س ا ص)

ج)۔ تو بھی رانی میں بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ کا پانی

د)۔ تُو بھی رانی مَیں بھی رانی، کَون بَھرے پَن گَھٹ پانی

معمولی فرق سے یہ ایک ہی رُوپ ہے جس کی توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ قدیم دور میں گھر گھر نلکے تونہیں تھے، پانی بھرنے کے لیے پن گھٹ (ملاکر لکھنے سے ابہام ہوتا ہے، اس لیے الگ لکھنا بہتر ہے) پرجانا پڑتا تھا۔ (س ا ص)

ہ)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون سَر پَر ڈالے پانی

و)۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی

ّّ ممتاز شاعرہ آمنہ عالم صاحبہ کا قیاس ہے کہ اس کہاوت کا یہ رُوپ ’’میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی‘‘ کا اطلاق یوں صحیح ہوسکتا ہے کہ بقول اُن کے ’’یہ بھی ہو سکتا ہے(کہ) طبقہ اشرافیہ میں خواتین کا سر دُھلانے کے لیے نائن ملازم ہوتی تھی (جو) پہلے چوکی پر بٹھا کر سر دُھلاتی تھی۔ پھر غسل کے لیے حمام خانے میں جاتے تھے۔ والدہ بتاتی تھیں کہ شادی سے پہلے اُن کے گھر میں یہی دستور رہا، ہمیشہ نائن نے سر دُھلایا ۔ اس صورت حال میں سر پہ پانی ڈالنے والا محاورہ بھی درست (لگتا) ہے‘‘۔

{یہاں خاکسار سہیل نئے قارئین خصوصاً نئی نسل کے نمایندوں کی اطلاع کے لیے عرض کرتا ہے کہ پچھلے ادوار ۔یا۔پرانے وقتوں میں بعض پیشوں سے خاندانی طور پر جُڑے ہوئے لوگ بعض کام اضافی کرتے اور حسبِ موقع انعام واِکرام پاتے تھے۔ نائی یعنی حجّام اور اُس کی بیوی نیز کبھی (حسبِ ضرورت و تقاضا) دیگر اہلِ خانہ کسی بھی گھر میں، شادی بیاہ۔ یا۔ کسی دوسرے موقع پر، ایسے اضافی کام کردیا کرتے تھے جن کے لیے آج ہم الگ الگ ملازم رکھتے ہیں۔ نائی ایک جگہ سے دوسری جگہ ، ایک گھر سے دوسرے گھر پیغام رسانی کی خدمت بھی انجام دیا کرتے تھے۔

لغت میں نائی اور نائن کی تعریف کچھ اِس طرح ملتی ہے:

نائی: ہندی، اسم مذکر۔حجّام، مُو تَراش(فارسی: س ا ص)، خلیفہ;قصبات کی زبان ہے(جُہَلاء نے خلیفہ بمعنیٰ نائب یا حکمراں کی بجائے حجّام ہی کو یہ نام دے دیا اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ آج بھی گاؤں دیہات میں نائی کو خلیفہ ہی کہا جاتا ہے، بلکہ شہروں میں بھی گاؤں سے آئے ہوئے لوگ یہی لفظ استعمال کرتے ہیں: س اص)، نائی کی برات میں سبھی ٹھاکر ۔مثل ۔وہاں بولتے ہیں جہاں سب ’امتیازی‘ ہوں اور کام کرنے والا کوئی نہ ہو۔اپنی قوم میں ہرکوئی ذی عزت ہے۔ اپنے گھر میں سب عزت دار ہوتے ہیں ۔نائی نائی بال کِتنے، ججمان جی ! آگے آتے ہیں۔مثل ۔ جب کوئی فوراً ہی سامنے ظاہر ہونے والی بات کی نسبت پوچھے ، وہاں بولتے ہیں۔نائی کو گنوار لوگ ناؤ بَروزنِ خالُو بھی کہا کرتے تھے، اسی طرح اُس کی بیوی کو نائن کی بجائے ناوَن کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ بقول مولوی نیّر، یہ گاؤں یا قصبے کی بولی ٹھولی تھی(نوراللغات جلد دُوُم)۔یہاں مؤخرالذکر مَثَل یا کہاوت کا متن دیگر مقامات سے مختلف ہے، خصوصاً بول چال کی زبان سے( س ا ص)۔اس اہم لغت کے فاضل مؤلف یہ بتانا بھول گئے کہ نائی ختنہ بھی کیا کرتا ہے اور شادی بیاہ یا کسی اہم موقع پر پکوان ازقسمے چاول وغیرہ پکانے کی ذمے داری بھی اُسے ہی سونپی جاتی تھی۔

لگے ہاتھوں نامور طنز ومزاح گو جناب اکبر ؔ الہ آبادی کا ایک شعر بھی دیکھ لیجے:

جو وَقتِ ختنہ مَیں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر

مُسَلمانی میں طاقت ، خون ہی بہنے سے آتی ہے

دل چسپ بات یہ ہے کہ جُہَلاء کے یہاں ختنے کو ’مسلمانی ہونا‘ کہا جاتا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو شاعر نے ’مسلمانی‘ کا بہت بامعنیٰ استعمال کیا ۔

 نائنیں رشتے طے کروانے میں وہ کردار اَدا کرتی تھیں جو آج کل ’رشتہ آنٹیاں‘ بامعاوضہ کرتی ہیں یعنی کہیں کوئی لڑکی دیکھی تو اُس کے اہل خانہ یا کسی لڑکے کے اہل خانہ کی فرمائش اور تقاضے کے مطابق، دوسرے گھر میں اُس کا ذکر کردیا، پھر رشتہ طے ہونے کی صورت میں دولھا ، دلھن کے گھر والے اپنی خوشی سے کچھ رقم یا انعام دے دیا کرتے تھے۔

 اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک اہم نگارش کا اقتباس بھی نقل کروں:

’’پشتون قبیلوی سیٹ اَپ میں ’نائی‘کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً وہ ایک کسب گر ہوکر پورے ٹل کے افراد کی خدمت ایمانداری سے کرتا تھا، جس کا معاوضہ اُس کو غلّے اور بعض موقعوں پر نقدی کی شکل میں ملتا تھا۔ خاص کر شادی بیاہ یا غم کے دوران میں اس کا موجود ہونا اور فرائضِ منصبی بطریقِ احسن نبھانا ایک اہم معاشرتی فریضہ تھا۔ مزید برآں لشکر جمع کرنے، اُشر کا اعلان کرنے، جنگ کی تیاری کرنے اور عوام الناس کو کسی مسئلے کی اہم خبر پہنچانے کے لیے وہ نقارہ (ڈمامہ) بجاتا تھا۔ نیز وہ گھوڑے یا خچر کا مہار پکڑکر نائیک کی زنانی کو میکے سے صحیح سالم گھر پہنچاتا تھا اور خیرات، شادی اور ختنہ وغیرہ میں چاول پکاتا تھا۔ بعض موقعوں پر تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے تھے۔ مثلاً وہ خوشخبری (زیرے) بچوں کے سر کے بال لینے (سنڈے)، دھونی دینے (لوگے کول) اور معاوضہ مہار لینے (جلب) کا رقم ضرور لیتا تھا۔ ایسے موقعوں پر وہ کنجوسوں کی خوب خبر لیتا تھا لیکن بعد میں شکوہ بہت کم کرتا تھا۔ البتہ سخی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتا تھا۔

کہتے ہیں کہ باتونی ہونا، نائی اور کوچوان کی گٹھی میں شامل ہے۔ کیوں کہ دونوں انتظار کروانے کے لیے لوگوں کو باتوں میں اُلجھاتے ہیں، لیکن یہ ان کی کاروباری مجبوری ہے جو رفتہ رفتہ ان کی فطرتِ ثانیہ بن گئی ہے اور ہر پیشہ جب نسلوں تک جاری رہے، تو کاروباری نفسیات کے نتیجے میں بننے والی عادات واطوار انسان کو دائمی خول میں بند کرتی ہیں، جس میں انسان خود اپنی حیثیت کا غلام بن جاتا ہے‘‘۔ مضمون ’’نائی کا پیشہ سماجی حیثیت کے تناظر میں‘‘، تحریرساجد ابو تلتان، باخبر سُوات ڈاٹ کام }۔

آئیے اب کہاوت کے باقی رُوپ بھی دیکھ لیں:

ز)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بھرے نَدّی سے پانی

یہاں تو واضح طور پر یہ کہاوت دیہی پس منظر سے منسلک معلوم ہوتی ہے۔ (س ا ص)

ح)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی، کون کھینچے کوئیں کا پانی

ط)۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کھینچے کون کوئیں کا پانی

یہ رُوپ بھی شہری نہیں، دیہی معلوم ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کہاوت گھُوم پھِر کر دیہات تک پہنچی ہوتو وہاں کسی نے یوں تبدیل کردیا ہو۔ (سا ص)

ی)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بَھرے گا پانی

یہ بالکل غیر واضح رُوپ ہے کہ کس نے کس کا پانی بھرنے کی بات کی۔(س ا ص)

ک)۔میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گا گھر کا پانی

یہاں لگتا ہے کہ پرانی کہاوت کا نیا رُوپ اختیار کرلیا گیا جیسے ہمارے لوگ باگ ’عوامی‘ یا ’تحتی‘ یا ذیلی یا بازاری (Slang) گفتگو میں کرلیتے ہیں۔ (س ا ص)

جب ہم اسی کہاوت کے اصل متن کی تحقیق کرتے ہوئے،لغات سے رجوع کریں تو ہمیں یہ معلومات میسر آتی ہیں:

1۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ مثل (عو)۔ احدیوں اور کاہلوں کی نسبت بولتی ہیں جو بہانے ہی کرتے ہیں (نوراللغات)۔یہ لفظ ’احدی‘ بہت سے لوگوں کے لیے نامانوس اور متروک ہوگا۔ اس کا مطلب بھی سُست اور کاہل ہی ہے۔ یہ پرانی زنانہ بولی میں شامل تھا جو ہم نے اپنے بچپن میں اپنی عظیم ’زباں فہم‘ والدہ مرحومہ سے سُنا۔ البتہ قابل ِ ذکر اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس کا مصدر ۔یا۔ماخذ نہیں ملتا۔( س ا ص)

2۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ کہاوت: کاہلوں اور حِیلہ حوالہ کرنے والوں کی نسبت بولتے ہیں۔ کام چور بہانہ ڈھونڈتا ہے۔ (فرہنگِ آصفیہ) (یہ حِیلہ حوالہ بھی اب متروک ہے : س اص)

3۔ میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون سرپر ڈالے پانی: جب سب ہی امیر زادیاں ہوں تو کام نہیں چل سکتا (محاوراتِ نسواں از محترمہ وزیربیگم ضیاءؔ، ادیب فاضل، جامعہ پنجاب، لاہور: طبع دُوُم۔1944)

4۔ میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔نیز۔کون بھرے پنگھٹ پہ پانی: اردو۔مثل :کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں (علمی اردو لغت از وارث سرہندی)

5۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ نیز کون بھرے پنگھٹ پہ پانی: اردو۔مثل۔کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں جو کام کرنے سے جی چُراتے ہیں۔ (فیروزاللغات جامع ۔نیا ایڈیشن)

6۔تُو بھی رانی، میں بھی رانی، کون بھرے پن گھٹ پر پانی: کہاوت۔یعنی جب ادنیٰ و اعلیٰ کو برابری کا دعویٰ ہو تو کام کس سے لیا جائے۔(لغات النساء از مولوی سید احمد دہلوی، مؤلف ِ فرہنگ آصفیہ۔1917)۔ انتہائی تعجب خیز نکتہ ہے کہ ایک ہی مؤلف یا مدیر کی دو مختلف لغات میں ایک کہاوت دو مختلف انداز میں درج کی گئی۔

7۔ا)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کون بھرے (گا) ندّی سے پانی

   ب)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کون سر پر ڈالے پانی

   ج)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کھینچے کون کُوئیں کا پانی

ا)۔ کہاوت: کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں، جب دونوں کاہل ہوں اور کام سے جی چُرائیں تو کہتے ہیں۔

ب)۔ سب ہی امیرزادیاں ہوں تو کام نہیں چل سکتا۔

(اردو لغت۔ تاریخی اصول پر ، جلد 19، اردو لغت بورڈ)

وحیدہ نسیم صاحبہ کی مرتب کی ہوئی لغت،’لغات النساء‘ میں یہ اہم کہاوت یا مثل شامل نہیں، جبکہ حیرت سی حیرت ہے کہ ’دِلّی کی بیگماتی زبان‘ از محی الدین حسن ، مطبوعہ جامعہ نگر، نئی دہلی ، ستمبر 1976ء اور ’’اردو بول چال (زنانہ) عُرف لغات الخواتین مؤلفہ مولوی امجدعلی اشہری (مطبوعہ 1925ء) جیسی اہم کتب میں بھی اس کا کوئی اندراج نہیں، نیز فرہنگ ِ اردو محاورات اَز پروفیسر محمد حسن ، اصل مطبوعہ ہندوستان ،چربہ اشاعت لاہور (1996) اور رُوہیل کھنڈ اُردو لغت مؤلفہ رئیس رامپوری ، مطبوعہ لاہور (مارچ 1999) میں اس کا ذکر نہیں;دیگر کتب میں بھی تلاش بے سُود ثابت ہوئی۔

خاکسار کے حلقہ احباب اور واٹس ایپ حلقے ’بزم زباں فہمی‘ کے اراکین نے اپنے اپنے گھر میں رائج اسی کہاوت کے رُوپ اس طرح بیان کیے:

ا)۔ آمنہ عالم، شاعرہ۔کراچی( آبائی وطن : سہارن پور، یوپی ): میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گا گھر کا پانی

ب)۔ تسنیم کوثر، شاعرہ، ادیبہ۔لاہور (آبائی وطن: دہلی): ۔ایضاً۔

ج)۔ ماہ جبیں آصف، ادیبہ۔ کراچی (آبائی وطن: لکھنؤ) میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گھر کا پانی

د)۔ زاہد حسین جوہری، شاعر، نقاد، بینکار، معلّم، نشریات کار (آبائی وطن : جے پور): مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بَھرے گا پانی

ہ)۔ مہ جبین زاہد (بیگم زاہد جوہری)، نشریات کار (آبائی وطن: بِہار):۔ ایضاً۔

و)۔ ربیعہ اکرم، نشریات کار [Broadcaster]، معلّم۔کراچی(ددھیال: دِلّی، ننھیال: بلند شہر): میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ پہ پانی۔

اِک ذرا سی بات کا فسانہ ۔یا۔ پر کا کوّا بنانا اسے کہتے ہیں۔ یہ اہل زبان ہی کا کام ہے، ہر کَس وناکَس کے بس کی بات نہیں!  n

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار