جعلی دعوؤں اور جعلی گواہوں کی روک تھام کے لیے نادرا بایومیٹرک نظام نافذ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سٹی42: عدالتوں میں جعلی دعوؤں اور جعلی گواہوں کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے نادرا کے بایومیٹرک سسٹم کے تحت شناخت کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت کیسز میں شناختی تصدیقی سلپ لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیشن جج لاہور کی ہدایت پر ماتحت عدالتوں میں نادرا ویری فکیشن کاؤنٹر قائم کر دیے گئے ہیں۔ یہ کاؤنٹر مارکنگ برانچ، سول کورٹ مارکنگ برانچ اور ماڈل ٹاؤن کینٹ کچہری میں قائم کیے گئے ہیں تاکہ سائلین اور گواہوں کی فوری تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔
پشاوربورڈ نے میٹرک امتحانات کے شیڈول کا اعلان کردیا
سیشن جج لاہور نے اس حوالے سے تمام ججوں اور بار ایسوسی ایشنز کے صدور کو باضابطہ مراسلہ بھی ارسال کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت اب ہر مقدمے میں مدعی اور گواہ کی نادرا بایومیٹرک تصدیقی سلپ عدالت میں پیش کرنا لازمی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔