چوک سرورشہید میں المناک ٹریفک حادثہ، سکول جاتے 5 کم سن بچے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لیہ روڈ مان پمپ کے قریب تیز رفتار ٹرالر اور دو موٹر سائیکلوں کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں پانچ کم سن بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔لیہ روڈ پرحادثہ اس وقت پیش آیا جب بچے سکول جا رہے تھے کہ تیز رفتار ٹرالر کی زد میں آ گئے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور تھانہ سٹی سرورشہید پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جاں بحق بچوں کی لاشوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے۔جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت عبداللہ (عمر 5 سال) اور عبدالرحمن (عمر 7 سال) کے نام سے ہوئی جو آپس میں بھائی تھے، دیگر بچوں میں عبدالباسط (عمر 17 سال) اور دعا فاطمہ جو بہن بھائی تھے، جبکہ محمد عادل (عمر 16 سال) بھی حادثے میں جان کی بازی ہار گیا۔تمام جاں بحق بچے چک نمبر 560 کے رہائشی بتائے جاتے ہیں، افسوسناک واقعے پر اہلِ علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔