کراچی، خانہ فرہنگ میں پاکستانی وکلاء برادری کی کانفرنس، ایران سے اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ایڈووکیٹ منیر ملک نے وکلاء برادری کیجانب سے باضابطہ بیان پڑھتے ہوئے ایران کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیا اور خطے میں اسکے گہرے اور اسٹریٹجک کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران بالکل بھی شام، عراق یا لیبیا کیطرح نہیں بلکہ مضبوط قیادت و عوامی حمایت کے باعث بیرونی مداخلت کیخلاف ڈٹا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 39ویں خصوصی اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف منظور کی گئی غیر منصفانہ قرارداد کی مذمت میں 1,740 پاکستانی وکلاء اور قانونی ماہرین کے مشترکہ قانونی بیان کے سنگِ میل کے بعد کراچی شہر سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی وکلاء برادری نے خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ پریس کانفرنس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران، اسکے عوام اور اسکی قانونی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ اس موقع پر سندھ ہائیکورٹ، سیشن کورٹ، سول کورٹ اور سٹی کورٹ سے تعلق رکھنے والے وکلاء خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کی قیادت پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ منیر احمد ملک نے ہیں، ان کے ہمراہ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری غلام مصطفیٰ کورائی، کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اختیار علی چنا، سندھ بار کونسل کے رکن امیر بخش میتلو، ملیر کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ارشد علی شر، سید صداقت علی شاہ و دیگر سینئر وکلاء مووجد تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایڈووکیٹ منیر احمد ملک نے تمام وکلاء برادری کی جانب سے باضابطہ بیان پڑھتے ہوئے ایران کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیا اور خطے میں اس کے گہرے اور اسٹریٹجک کردار پر روشنی ڈالی۔
ایڈووکیٹ منیر احمد ملک نے کہا کہ قومی خودمختاری اور استحکام کسی بھی ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں، ایران بالکل بھی شام، عراق یا لیبیا کی طرح نہیں بلکہ مضبوط قیادت اور عوامی حمایت کے باعث بیرونی مداخلت کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران شدید دباؤ اور پروپیگنڈے کا سامنا کر رہا ہے، تاہم حکومتِ ایران کو کمزور کرنے کی کوششیں اور افواہیں ناکام ہونگی، کیونکہ ایرانی عوام ایسی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
خانہ فرہنگ ایران کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور حکومتِ پاکستان بالخصوص پاکستانی وکلاء، مجسٹریٹ اور قانونی ماہرین کی مستقل اور اصولی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹڑ سعید طالبی نیا نے مغربی میڈیا اور سائبر پروپیگنڈے، جن میں CNN، BBC اور FOX جیسے چینلز شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے خلاف غلط بیانی اور منفی تاثر سازی کی نشاندہی کی، جبکہ پاکستان کی جانب سے ایران اور اس کی قیادت کے ساتھ برادرانہ یکجہتی کو سراہا۔ انہوں نے بعض پُرتشدد واقعات میں غیر ملکی خفیہ اداروں کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آخر میں انہوں نے قانونی برادری اور میڈیا نمائندگان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
کانفرنس کے دوران شرکاء نے اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی شہداء کی یاد میں قائم یادگاری رجسٹر میں اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ اس موقع پر مہمانوں اور میڈیا نمائندگان کیلئے خانہ فرہنگ ایران کیجانب سے شائع کردہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصانیف کے اردو تراجم پر مشتمل کتابوں کے تحائف بھی یہش کئے۔ کانفرنس کے اختتام پر مہمانان گرامی کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران وکلاء برادری اور اس
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔