درگاہوں پر بلڈوزر کارروائی مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، مولانا محمود مدنی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ کے جی ایم یو سے متصل حضرت حاجی ہرمین شاہ کے آستانے میں توڑ پھوڑ اور اب حضرت مخدوم شاہ مینا کے احاطے میں واقع 500 سال سے زائد قدیم مزارات کے خلاف انہدامی نوٹس جاری کرنا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کیمپس میں واقع قدیم مزارات کو لے کر جاری انہدامی نوٹس نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں، مسلم مذہبی تنظیموں اور سماجی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس کارروائی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کے جی ایم یو انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائی اور نوٹسوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے جی ایم یو سے متصل حضرت حاجی ہرمین شاہ کے آستانے میں توڑ پھوڑ اور اب حضرت مخدوم شاہ مینا کے احاطے میں واقع 500 سال سے زائد قدیم مزارات کے خلاف انہدامی نوٹس جاری کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔ مولانا محمود مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات آئین ہند میں دئے گئے مذہبی آزادی کے حق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
مولانا محمود مدنی نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ کے جی ایم یو سے متصل یہ مزارات کم از کم 700 سال پرانے ہیں، جبکہ کنگ جارج میڈیکل کالج کی بنیاد 1912ء میں رکھی گئی تھی۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ درگاہیں کالج کے بعد وجود میں آئیں، سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے قیام کے وقت ہی ریونیو محکمے نے درگاہ کی زمین کو باقاعدہ حد بندی کے ذریعے کالج کی زمین سے الگ کر دیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ زمین اپنی مستقل اور آزاد قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے الزام عائد کیا کہ میڈیا کے ذریعے ایک غلط بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے سہارے تاریخی وقف املاک پر ناجائز کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 اپریل 2025ء کو تقریباً 700 سال پرانے آستانہ حضرت حاجی ہرمین شاہ کی حدود میں واقع وضوخانہ، عبادت گاہ اور زائرین کی سہولتوں کو پروفیسر ڈاکٹر کے کے سنگھ کی نگرانی میں منہدم کیا گیا، جو یکطرفہ اور مکمل طور پر غیر قانونی اقدام تھا۔ اس کارروائی کے لئے نہ کوئی عدالتی حکم موجود تھا اور نہ ہی کسی قانونی اجازت کا سہارا لیا گیا۔
مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ متعلقہ زمین وقف ایکٹ 1995ء کے تحت باقاعدہ وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ وقف قانون کے مطابق وقف املاک سے متعلق کسی بھی تنازع یا کارروائی کا اختیار صرف مجاز عدالت کو حاصل ہے، نہ کہ کسی تعلیمی ادارے یا اس کے افسران کو۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے انہدامی نوٹس جاری کرنا اور دباؤ کی پالیسی اپنانا مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کے جی ایم یو انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ گمراہ کن تشہیر کے ذریعے ملک کے وقف قوانین کی خلاف ورزی سے باز آئے اور فوری طور پر تمام نوٹس واپس لے۔ مولانا محمود مدنی کا کہنا تھا کہ اگر اس قسم کی کارروائیاں جاری رہیں تو جمعیۃ علماء ہند قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔
آخر میں مولانا محمود مدنی نے سنی وقف بورڈ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قدیم مزارات، مذہبی مقامات اور تاریخی ورثے کی منظم نشاندہی کے لیے خصوصی مہم چلائے۔ جن حصوں کو منہدم کیا گیا ہے، ان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور متولیوں کو تمام متعلقہ قانونی دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں، تاکہ آئندہ اس طرح کے تنازعات اور اقدامات کو روکا جا سکے۔ مولانا محمود مدنی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کا تحفظ ملک کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی صورت میں تاریخی مذہبی ورثے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ قابل قبول نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا محمود مدنی نے جمعیۃ علماء ہند انہوں نے کہا کہ انہدامی نوٹس قدیم مزارات کے جی ایم یو خلاف ورزی میں واقع
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔