Express News:
2026-07-24@03:36:20 GMT

فیفا ورلڈکپ ٹرافی کا ایونٹ سے قبل پاکستان کا دورہ متوقع

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

فیفا ورلڈکپ ٹرافی کا میگا ایونٹ سے پہلے دورہ پاکستان متوقع ہے۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد کھوکھر نے ایکسپریس نیوز کے مارننگ شو ایکسپریسو میں بطور مہمان شرکت کی۔

فیفا اور اے ایف سی کے ساتھ گہرے روابط رکھنے والے شاہد کھوکھر نے پاکستان میں فٹبال کے 10 سالہ بحران کے حل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد کھوکھر نے کہا کہ فٹبال کی عالمی تنطیم کے سربراہ جیانی انفینٹینو کی پاکستان آمد رواں برس کسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جو ملک میں فٹبال کی ترقی کے نئے دروازے کھولے گی۔

انہوں نے کہا کہ فیفا کی مدد سے پاکستان میں فٹبال کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔

شاہد کھوکھر نے کہا کہ 2026 فٹبال ورلڈکپ کا سال ہے، اس مناسبت سے پاکستان میں بھی پروموشنل پروگرام ہوں گے۔ رواں برس پاکستان میں پروفیشنل لیگ کرانے کا بھی پلان ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ایک لمبے عرصے کے بعد انتخابت ہوئے جس کے بعد اب محسن گیلانی کی سربراہی میں پاکستان فٹبال فیڈریشن فعال کام کررہی ہے۔

شاہد کھوکھر نے کہا کہ محسن گیلانی کا بطور فٹبال منتظم بہت اہم کردار رہاہے، یقین ہے کہ پاکستان میں بھی اب کھیل کو مزید فروغ ملے گا۔ پاکستان کو اس مقام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی جس کا پاکستان مستحق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس وقت میں ملک میں ووٹنگ کلبز دو ہزار 400 سے دو ہزار 500 اور پاکستان میں رجسٹرڈ فٹبال کلبز کی تعداد 6 ہزار کےقریب ہے، جواس بات کا ثبوت ہے کہ کس سطح پر کھیل کے لیے کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فٹبال ہمیشہ سے مقبول رہی ہے۔ میڈیا کوریج اور  بطور برینڈ بننے کے بعد  اب نوجوان نسل میں فٹبال کا جنون مزید بڑھتا جا رہا ہے۔

شاہد کھوکھر نے کہا کہ ویمنز ٹیم کو فیفا سیریز کا حصہ بنایا ہے، جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس سے پاکستان کو انٹرنیشنل ایونٹس زیادہ کھیلنے کو ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ویمنز کے ساتھ پاکستان مینز ٹیم کی پرفارمنس کا گراف بہتر کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں میں فٹبال

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا