data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بین الاقوامی ٹیم نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر انسانی رہائش کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔ یہ سیارہ زمین کے حجم کا ہے اور ہمارے نظام شمسی سے تقریباً 146 نوری برس کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ اس کا ماحول مریخ سے ملتا جلتا قرار دیا گیا ہے۔

یہ دلچسپ دریافت عالمی سائنسی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس کے نتائج Astrophysical Journal Letters میں شائع ہوئے ہیں، جس سے مستقبل میں ممکنہ انسانی بستیوں کے لیے نئی راہیں کھلنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے سیارے کا نام ’ایچ ڈی 137010 بی‘ رکھا گیا ہے، جو ایک سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے اور زمین سے تقریباً چھ فیصد بڑا ہے، اس سیارے کی اپنے ستارے کے گرد گردش کا دورانیہ تقریباً 355 دن ہے، جو زمین کے سال کے برابر ہے۔

یہ دریافت ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی جس میں آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ اور ڈنمارک کے ماہرین شامل تھے۔ تحقیق کے لیے ٹیم نے ناسا کی کیپلر اسپیس ٹیلی اسکوپ کے 2017 کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ سیارے کے ستارے کے سامنے سے گزرتے وقت اس کی روشنی میں مختصر چمک پیدا ہوئی، جسے ابتدائی طور پر نو آموز ماہرین نے دیکھا اور بعد میں باقاعدہ تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔

تحقیق کے مطابق ایچ ڈی 137010 بی جس ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے، وہ ہمارے سورج کے مقابلے میں نسبتاً ٹھنڈا اور مدھم روشنی والا ہے، جس کی وجہ سے سیارے کی سطح پر درجہ حرارت مریخ کے ماحول سے مشابہت رکھتا ہے اور بعض اوقات منفی 70 ڈگری تک گر سکتا ہے۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سیارہ نسبتا ہمارے نظام شمسی کے قریب ہے، مگر موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ وہاں پہنچنے میں ہمیں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیارے میں انسانی رہائش کے قابل ماحول موجود ہونے کا تقریباً 50 فیصد امکان ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ستارے کے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ