سونے کی قیمت میں دوسرے روز بھی 21 ہزار روپے کا تاریخی اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی:
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دوسرے روز بھی بہت بڑا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد قیمتیں ایک بار پھر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
صرافہ مارکیٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 212 ڈالر کے بڑے اضافے سے 5 ہزار 504 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔
اس کے اثرات مقامی بازار پر بھی مرتب ہوئے جس کے بعد ملکی سطح پر فی تولہ سونے کی قیمت میں دوسرے روز بھی 21 ہزار 200 روپے کا بہت بڑا اضافہ ہوا اور ایک تولہ سونے کی نئی قیمت 5لاکھ 72ہزار 862روپے کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگئی۔
مزید پڑھیںسونے کے نرخ میں 21 ہزار روپے کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت 18ہزار 175روپے بڑھ کر 4لاکھ 91ہزار 136روپے کی سطح پر آگئی۔
دریں اثنا سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی مسلسل اضافے اور نئی ریکارڈز قائم ہونے کا سلسلہ جاری ہے، فی تولہ چاندی کی قیمت 264 روپے کے اضافے سے 12ہزار 175روپے اور فی دس گرام قیمت 227روپے کے اضافے سے 10ہزار 438روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت کی نئی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔