دوستوں کی پکار 55 دن کومے میں رہنے والے 8 سالہ بچے کو زندگی کی طرف کیسے واپس لے آئی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وسطی چین میں ایک 8 سالہ بچہ جو 55 دن تک کومے میں رہا، اپنے ہم جماعتوں کے دل کو چھو لینے والے ویڈیو پیغامات اور اسکول کی مانوس آوازیں سننے کے بعد ہوش میں آ گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، ہونان صوبے کے شہر یوئے یانگ سے تعلق رکھنے والا بچہ لیو چو شی گزشتہ سال نومبر میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید دماغی چوٹ اور پھیپھڑوں کے نقصان کے باعث کومے میں چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 سالہ اسنوکر کھلاڑی نے ٹرک شاٹس کے عالمی ریکارڈ قائم کردیے
چینی میڈیا ادارے کے مطابق ڈاکٹروں نے اس کے اہلِ خانہ کو آگاہ کر دیا تھا کہ اس کے دوبارہ ہوش میں آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں لیکن اس کے باوجود بچے کی والدہ نے ہمت نہیں ہاری اور علاج کی تلاش میں اپنے بیٹے کو مختلف اسپتالوں میں لے کر جاتی رہیں۔
اسی دوران ایک معالج نے مشورہ دیا کہ مانوس آوازیں اور پسندیدہ موسیقی دماغ کے مخصوص حصوں کو متحرک کر کے بحالی کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کاکروچز سے مگرمچھ تک، لالاموو کے رائیڈرز کو ملنے والی حیران کن ڈیلیوریز نے سب کو چونکا دیا
ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے لیو کی والدہ نے اسکول میں بجنے والی صبح کی اسمبلی کی موسیقی اور ورزش کے گانے ریکارڈ کر کے روزانہ بچے کے بستر کے قریب چلانا شروع کیے۔ اس کے ساتھ ہی لیو کے استاد نے اس کے ہم جماعتوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے دوست کے لیے حوصلہ افزا ویڈیو پیغامات ریکارڈ کریں۔
ان ویڈیوز میں ایک بچے نے کہا ’چو شی، جلدی ہوش میں آ جاؤ ہم دوبارہ فٹبال کھیلیں گے‘۔ ایک اور ویڈیو میں ایک لڑکی نے کہا کہ ہم سب تمہیں بہت یاد کر رہے ہیں چو شی۔ اگر تم ہمیں سن سکتے ہو تو براہِ کرم آنکھیں کھولو۔ امتحانات قریب ہیں اور ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں کہ تم واپس آؤ اور ہمارے ساتھ پڑھو‘۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کے لیے کیو آر کوڈنگ سسٹم کا آغاز
ایک لڑکے نے لیو کا پسندیدہ گانا گایا جبکہ دیگر بچوں نے کلاس روم کی مزاحیہ باتیں شیئر کیں۔ لیو کی والدہ نے اس کے استاد کے ریاضی کے اسباق کی ریکارڈنگز بھی چلائیں تاکہ اسپتال کا کمرہ اسکول کی روزمرہ زندگی کی آوازوں سے بھر جائے۔
کومے کے 45ویں دن لیو نے پہلی بار آنکھوں کی پلکیں ہلانا شروع کیں۔ چند دن بعد جب اس نے اپنے استاد کی آواز سنی تو وہ مسکرا دیا۔ 55ویں دن وہ مکمل طور پر ہوش میں آ گیا اور اپنا بایاں ہاتھ ہلانے کے قابل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گریٹ فالز میں موجود پراسرار سائیکلیں شہریوں کے لیے معمہ بن گئیں
بعد ازاں اس کے استاد اور ہم جماعت اسپتال آئے اس کے لیے کھلونے اور ہاتھ سے بنے کارڈز لائے۔ استاد نے مذاق میں لیو سے کہا کہ اسے ہوم ورک سے چھوٹ ملے گی جس پر لڑکے نے آنکھیں مزید کھولنے کی کوشش کی اور ہاتھ ہلا کر ردِعمل دیا۔
لیو کی والدہ نے اس لمحے کو زندگی بدل دینے والا قرار دیا اور کہا کہ ’مجھے آخرکار بادلوں کے پیچھے سورج نظر آ گیا۔ واقعی ایک معجزہ ہو گیا‘۔ انہوں نے ڈاکٹروں، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ میرے بیٹے کا معاملہ ان خاندانوں کے لیے امید بنے گا جو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں‘۔
رپورٹس کے مطابق لیو کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے تاہم اس کی مکمل بحالی میں ابھی کافی وقت لگے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قومہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یہ بھی پڑھیں کی والدہ نے ہوش میں آ میں ایک لیو کی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر