data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: گل پلازہ کے ملبے کی منتقلی کے دوران انتظامیہ کی مبینہ غفلت سامنے آ گئی ہے، جس کے باعث نہ صرف عوامی سلامتی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں بلکہ قیمتی سامان کی حفاظت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملبے میں موجود اربوں روپے مالیت کے سریا اور دیگر دھاتیں کھلے ڈمپروں میں لاد کر مختلف مقامات کی جانب منتقل کی جا رہی ہیں، لیکن اس دوران مناسب نگرانی یا حفاظتی انتظامات نظر نہیں آ رہے۔

رپورٹ کے مطابق ملبے کی منتقلی کے دوران نشے کے عادی افراد نے بھی ملبے سے سریا نکالنے کی کوشش کی، جس سے انتظامی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص ڈمپر سے چلتے چلتے سریا نکالتا ہے اور موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔

ویڈیوز اور عینی شاہدین کے مطابق ڈمپر کھلا ہوا ہے اور اس پر کسی قسم کی حفاظتی پابندی یا کورنگ نہیں کی گئی، جس سے چوری اور حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

شہریوں نے خبردار کیا کہ بھاری دھات اور ملبہ اگر سڑک پر گر گیا تو یہ ٹریفک حادثات اور عوامی خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملبے کی منتقلی کے دوران مناسب نگرانی، ڈمپروں کی کورنگ اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی نہ ہونے سے نہ صرف عوامی تحفظ خطرے میں ہے بلکہ اربوں روپے مالیت کے قیمتی سامان کی بچت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس صورتحال نے انتظامیہ کی کارکردگی اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملبے کی منتقلی

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد