نجی اسکولوں کو 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: صوبائی محکمۂ تعلیم نے سندھ ہائی کورٹ (سکھر بینچ) کے واضح احکامات کی روشنی میں صوبے بھر کے تمام نجی اسکولوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کم از کم 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے قانونی تقاضے پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنائیں۔
محکمۂ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہدایات سندھ ہائی کورٹ کے کیس سی پی نمبر 1592/2025 (مسز فوزیہ و دیگر بنام حکومت سندھ) میں 12 جنوری 2026ء کو سنائے گئے فیصلے اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے موصول ہونے والے مراسلے کی بنیاد پر جاری کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ رائٹ آف چلڈرن ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2013ء کے تحت ہر نجی تعلیمی ادارہ اپنے مجموعی داخلہ شدہ طلبہ میں سے کم از کم 10 فیصد بچوں کو زیرو فیس کی بنیاد پر تعلیم فراہم کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں کو زیرو فیس واؤچرز اور دیگر متعلقہ دستاویزی شواہد جمع کروانے ہوں گے تاکہ عمل درآمد کی تصدیق کی جا سکے۔
محکمۂ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ نجی اسکولوں کی رجسٹریشن اور تجدیدِ رجسٹریشن اسی صورت میں منظور کی جائے گی جب متعلقہ ادارہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروائے گا۔
نوٹیفکیشن میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے اور سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ڈائریکٹر کو ذاتی طور پر ذمے دار ٹھہرایا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمۂ تعلیم کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں تعلیمی مواقع کو مساوی بنانا اور پسماندہ طبقات کے بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔