لاہور: کھلے مین ہول میں گرنیوالی بچی کی لاش بھی مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک)بھاٹی گیٹ داتا دربار کے قریب کھلے مین ہول میں ماں بیٹی کے گرنے کا دل خراش واقعہ پیش آیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، ماں کی لاش کے بعد آج 18 گھنٹے بعد بچی کی لاش بھی مل گئی۔ واقعہ بدھ کی رات پیش آیا تھا جس کے بعد پہلے ماں کی لاش ملی اور آج بچی کی لاش بھی برآمد کرلی گئی۔
حادثے کے فوری بعد وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کے واقعے کو جھوٹ قرار دے تھا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں ریسکیو 1122 کے جوانوں نے ایک بار پھر اپنی مستعدی کی مثال قائم کی اور بروقت اقدامات کیے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع “فیک” ہے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے حادثے کی تصدیق کی اور بتایا کہ جاں بحق خاتون کی شناخت سعدیہ کے نام سے ہوئی جس کی لاش نکال لی گئی، 1122 کو واقعے کی کال موصول ہوتے ہی فوری طور پر تمام اداروں کو متحرک کیا گیا، خاتون کی ڈیڈ باڈی آؤٹ فال روڈ ڈسپوزل سے ملی۔
ڈی آئی جی کے مطابق پورے معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی گئیں،سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پورے واقعے کو مانیٹر کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ خاتون کے شوہر کی بیان کردہ تمام باتیں درست تھیں، فیملی رکشا پر آئی، کہاں رکشا پارک کیا، کس راستے سے داتا دربار زیارت کے لیے گئے اور واپسی پر کیسے یہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا سب کچھ کیمروں میں محفوظ ہے۔
ڈی آئی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ یہ خاندان داتا دربار پر سلام پیش کرکے نکل رہا تھا کہ اچانک کھلے مین ہول میں گرنے کا حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاتون کا شوہر حراست میں نہیں تھا بلکہ واقعے سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کھلے مین ہول میں کی لاش
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔