ٹیکنالوجی کے میدان میں روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کو نمایاں قرار دیتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ابوظہبی میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر روس متحدہ عرب امارات کی تعریف کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بات چیت اہم اور ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی صدر نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات میں اعلان کیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے خطے میں استحکام یقینی ہو گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کے ساتھ گفتگو میں کہا: روس، متحدہ عرب امارات کی شراکت داری کو آگے بڑھانے میں متحدہ عرب امارات کے صدر کی شخصیت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ آر آئی اے نووستی کے مطابق پیوٹن نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں روس کے لیے ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور اس کے ساتھ تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کہا کہ روس اور متحدہ عرب امارات توانائی کے شعبے میں اہم اقدامات کر رہے ہیں۔

روسی صدر نے ٹیکنالوجی کے میدان میں روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کو نمایاں قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ابوظہبی میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر روس متحدہ عرب امارات کی تعریف کرتا ہے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بات چیت اہم اور ضروری ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق فلسطینی ریاست کی تشکیل خطے میں طویل مدتی استحکام کو یقینی بنائے گی، پوتن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق فلسطینی ریاست کی تشکیل کا مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔

قبل ازیں، کریملن پریس سروس نے اعلان کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن جمعرات 29 جنوری کو متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان کے ساتھ بات چیت کریں گے، جو ماسکو کے سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ ملاقات ابوظہبی میں یوکرائن کے تنازعے کے حل پر سہ فریقی مذاکرات کے بعد ہے، جو چند روز قبل 23-24 جنوری کو منعقد ہوئے تھے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں روس، امریکہ اور یوکرین کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کا آغاز یکم فروری سے ہونا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر اس سے قبل کئی بار روس کا دورہ کر چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: روس اور متحدہ عرب امارات کے درمیان متحدہ عرب امارات کے صدر فلسطینی ریاست کے مطابق کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد