سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان کردیا، شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، کسی نے آگ نہیں لگائی، آگ گیارہ سالہ بچے سے لگی۔
یہ بات وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کراچی پولیس چیف آزاد خان اور کمشنر کراچی حسن نقوی کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس میں کہی۔
انہوں ںے کہا کہ گل پلازہ سانحے کے بعد خصوصی طور پر کابینہ کا اجلاس ہوا اور سب کمیٹی تشکیل دی گئی، سی ایم نے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی، کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے، آج وزیر اعلی کے پاس کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اہم فیصلے ہوئے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ گل پلازہ میں جب آگ لگی اس وقت 2500 سے دو ہزار لوگ موجود تھے،
آگ لگنے کے بعد کافی لوگ نکل گئے تاہم 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد محکمہ سول ڈیفنس نے دو ہزار تئیس سے متعدد فائر آڈٹ کیے اس کے بعد کوئی اقدام نہیں کیے گئے اس عمل کا ضلعی انتظامیا نے حکومت کو نہیں بتایا جس پر ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس کو فوری طور پر معطل کردیا گیا اس میں اگر کوئی اور بھی ملوث ہوا تو اس کو بھی سزا ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، چیف انجیئر بلکس اور چیف ہائڈرنٹس کو ہٹا کر محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، سینئر ڈائریکٹر کی ایم سی کو عہدے سے ہٹا کر محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی، وزیراعلی کی ہدایات پر تمام ریسکیو کے اداروں کو ایک چھت تلے لے آئیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا، گل پلازہ منظورہ شدہ بلڈنگ کے خلاف پائی گئی، یونین کی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، گل پلازہ کی لیز والے مرحلے میں سنگین بے ضابطگیاں نظر آئیں، اینٹی کرپشن کو کہا ہے اس پر قانون کے مطابق ایکشن لیں۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سانحہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں گے جس کے لیے حاضر سروس ہائی کورٹ کے جج کو جوڈیشل کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جائے گا جس کے لیے سندھ حکومت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ جماعتیں سیاست کر رہے ہیں، متاثرین کے گھروں پر ایک ایک کروڑ کے چیک پہنچائے جا رہے ہیں، اس سے زیادہ شفافیت کیا ہوگی کہ ہم اپنی کوتاہیوں کو بھی مان رہے ہیں، لیز کی تحقیقات اینٹی کرپشن کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے دن سے کہا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کا دباؤ قبول نہیں کریں گے، مختلف سیاسی جماعتوں نے سانحہ گل پلازہ پر سیاست کی، ہم کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، جس کا بھی قصور ہے جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات میں سامنے آجائے گا، کمیشن کی تحقیقات سامنے آنے دیں اپنے نتیجے خود نہ نکالیں، رپورٹ کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کون قصوروار ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آگ کیسے لگی اور کیسے پھیلی؟ یہ آئی جی بتاچکے، اے سی کے ڈکٹس سے آگ پھیلی، گیارہ سال کے بچے سے آگ لگی اس کے بھی شواہد موجود ہیں، بلیم گیم کی ضرورت نہیں کسی نے آگ نہیں لگائی، آگ کیسے لگی اس کے مضبوط شواہد موجود ہیں جب عدالت ہم سے مانگے کی تو عدالت میں شواہد جمع کرائیں گے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے وفاقی وزارتیں چھوڑیں اگر کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا ہے تو تھوڑا دباؤ بڑھائیں محض کراچی کی دیواریں خراب نہ کریں، سیاست نہ چمکائیں، جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم یا کسی جماعت کے مطالبے پر نہیں بنا یہ سندھ حکومت نے خود محسوس کیا اور فیصلہ کیا، ایم کیو ایم کو سیاست کرنی ہے مظاہرے کرنے ہیں تو کریں ہم انہیں نہیں روکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا، آپ سانحہ عاشورہ کی جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ لیں پتا چل جائے گا کہ بولٹن مارکیٹ کی دکانوں میں آگ کس نے لگائی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ آگ لگائی نہیں، نادانستہ طور پر لگی، کاغذ کے پھولوں کے دکان کے مالک باہر گئے تھے اس دوران بچے کے ہاتھ میں ماچس تھا اور آگ لگ گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن سیاسی جماعت سندھ حکومت کی تحقیقات گل پلازہ کے بعد
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر
پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئیڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوافرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔
مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔
نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرارپراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھےفرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔
جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحتڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔
فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موتڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل