آوارہ کتوں کے مسئلہ:چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر انعم فاطمہ کی زیر صدارت اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
آوارہ کتوں کے مسئلہ:چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر انعم فاطمہ کی زیر صدارت اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد ڈاکٹر انعم فاطمہ کی زیرِ صدارت 29 جنوری 2026 کو چیف آفیسر کے دفتر میں آوارہ کتوں کے مسئلے کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس دوپہر 2:30 بجے شروع ہوا اور شام 5:00 بجے تک جاری رہا۔اجلاس میں مختلف سیکٹرز سے تعلق رکھنے والے شہریوں، تاجر تنظیموں کے نمائندوں، ویٹرنری ماہرین، سول سوسائٹی اور اینیمل ایکٹیوسٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران آوارہ کتوں کے مسئلے پر تفصیلی اور بھرپور بحث کی گئی، جس میں معزز ہائی کورٹ کی ہدایات اور عالمی سطح پر رائج طریقہ کار کو مدِنظر رکھا گیا۔شہریوں اور تاجر برادری کے نمائندوں نے اجلاس میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقف اختیار کیا کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے۔
انہوں نے مختلف علاقوں میں کتوں کے کاٹنے کے حالیہ واقعات پیش کیے اور بتایا کہ عوام بالخصوص خواتین، بچے اور بزرگ شدید خوف کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں فوری اور مثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب اینیمل ایکٹیوسٹس نے اپنے دلائل میں جانوروں کے حقوق اور آوارہ کتوں کو معاشرے کا حصہ تسلیم کرنے پر زور دیا اور انسانی و جانوروں کے درمیان ہم آہنگی کے حل تجویز کیے۔بحث میں شدت کے باوجود چیف آفیسر ایم سی آئی نے نہایت تحمل اور غیر جانبداری سے تمام فریقین کے مقف سنے۔ ماہرین کی آرا اور تجاویز حاصل کرنے کے بعد اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کا حل مشاورت اور متوازن حکمتِ عملی سے ممکن ہے۔
اس ضمن میں تجویز دی گئی کہ کتوں کو مخصوص محفوظ اور باڑ لگے مقامات پر رکھا جائے یا مناسب طریقے سے کنٹرول کیا جائے، جبکہ انہیں گود لینے یا خوراک فراہم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے جائیں۔ چیف آفیسر ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ نے واضح کیا کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ اسلام آباد کے شہریوں کے لیے ایک دیرینہ اور حساس معاملہ ہے جسے تمام اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت کی اولین ترجیح انسانی جان کا تحفظ ہے، تاہم آوارہ کتوں کی نگہداشت اور بحالی کے معاملات عدالتوں کی ہدایات اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔ ایم سی آئی شہریوں کے تحفظ، عوامی خدشات کے ازالے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پائیدار حل کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں ہر جان قیمتی، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوائیں گے: مریم نواز پنجاب میں ہر جان قیمتی، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوائیں گے: مریم نواز پہلا ٹی 20: پاکستان نے آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دیدی کراچی وفاق کو دینے کا مطالبہ غداری ہے تو آئین سے شق نکال دیں، خالد مقبول عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، محمود اچکزئی وزیراعلی سندھ نے سانحہ گل پلازہ پرجوڈیشل انکوائری کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا کاروباری مشکلات سرمایہ کاروں کو بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہیں: سردار طاہر محمودCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر انعم فاطمہ آوارہ کتوں کے چیف آفیسر
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔