عمران خان کے طبی معائنے پر حکومت کو بروقت اہلخانہ کو آگاہ کرنا چاہیے تھا، یوٹیوبرز کا پروپیگنڈا بھی درست نہیں، عمار مسعود
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وی نیوز کے چیف ایڈیٹر عمار مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے کے بارے میں حکومت کو ان کے اہل خانہ کو مطلع کرنا چاہیے تھا لیکن دوسری جانب کچھ یوٹیوبرز کی جانب سے بانی چیئرمین تحریک انصاف کے صحت کے حوالے سے جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ بھی درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’عمران خان کو معائنے کے لیے پمز لایا گیا‘، وفاقی وزیر اطلاعات نے تصدیق کردی
سماء ٹی وی کے پروگرام ’ریڈ لائن ود طلعت ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عمار مسعود نے کہا کہ عمران خان کو پمز اسپتال لے جائے جانے کے حوالے سے خبر کو ابتدائی طور پر ظاہر نہ کرنے پر بہرحال حکومت کو بری الذمہ قرار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں ہمہ وقت سینکڑوں افراد موجود رہتے ہیں اور یہ بات صحافیوں سے بھی چھپی نہیں رہی اور پھر اگر حکومت 5 روز بعد اس بات کی تصدیق کرے تو یہ کوئی سمجھداری کی بات نہیں۔
عمار مسعود نے کہا کہ اگر یہ کسی حکمت عملی کے تحت کیا گیا تو کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا لیکن دوسری جانب عمران خان کی صحت کے حوالے سے یوٹیوبرز جو سنسنی پھیلاتے ہیں وہ بھی غیر مناسب بات ہے جس سے تاثر یہ ملتا ہے گویا بانی چیئرمین کی صحت کو بہت ہی سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
چیف ایڈیٹر وی نیوز نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ عمران خان کی طبعیت ناساز تھی ان کے بارے میں اہل خاندان کو بتانا چاہیے تھا لیکن یہ جو اڈیالہ جیل کے باہر 70 افراد کھڑے ہیں ان کے دباؤ سے کچھ نہیں ہوگا نہ کوئی ملاقات ہوگی۔
مزید پڑھیے: عمران خان کو اسپتال لائے جانے سے متعلق خبر کی تصدیق یا تردید کی پوزیشن میں نہیں، طلال چوہدری
انہوں نے کہا کہ محض یوٹیوبرز کے سوشل میڈیا پر واویلے اور ہر منگل اور جمعرات کو انقلاب کی نوید سنائی جا رہی ہوتی ہے اور تخت الٹے جا رہے ہوتے ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا نہ ہوگا کیوں کہ حکومت اگر ملاقات کروائے گی تو ان یوٹیوبرز کے پریشر پر نہیں کروائے گی۔
پروگرام کے اینکر و سینیئر صحافی طلعت حسین کے اس سوال کے جواب میں کہ ’لوگ عمران خان کے لیے خود کیوں نہیں نکلتے ان کو کالز کیوں دینی پڑتی ہیں‘ عمار مسعود نے کہا کہ تحریک انصاف نے کارکنوں و حامیوں کو اتنے ’ٹیکے‘ لگائے ہیں کہ لوگ اب تھک چکے ہیں اور جان چکے ہیں کہ احتجاج کے دوران جب بھی پولیس آجاتی ہے تو سب سے پہلے بھاگنے والی ہماری قیادت ہی ہوتی ہے خواہ وہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہوں یا عمران خان کی اہلیہ وہ ہمشیرہ ہوں اور عوام کو ڈنڈے کھانے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے ہاتھ میں بیماری کی لکیر نہیں، بانی پی ٹی آئی سے متعلق اوریا مقبول جان کے حیران انکشافات
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی عامر الیاس رانا نے بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کے موتیے کا آپریشن ہوا تاہم اس حوالے سے حکومت کو چاہیے تھا کہ عمران خان کے ڈاکٹرز و اہل خاندان کو اڈیالہ جیل یا اسپتال بلا لیتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیف ایڈیٹر وی نیوز عمار مسعود ریڈ لائن ود طلعت سما ٹی وی عمار مسعود عمران خان کی صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریڈ لائن ود طلعت سما ٹی وی عمران خان کی صحت عمران خان کے عمران خان کی کہ عمران خان چاہیے تھا نے کہا کہ حوالے سے حکومت کو کے لیے
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔