Islam Times:
2026-07-24@02:03:33 GMT

انصاراللہ کی فاتحانہ مزاحمت کا راز

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

انصاراللہ کی فاتحانہ مزاحمت کا راز

اسلام ٹائمز: یمنی مجاہدین قابض غاصبوں کیلئے خوف و ہراس کا باعث ہیں اور جب ٹرمپ نے انصار اللہ کو ایک زبردست حملے سے تباہ کرنے کی تصدیق کی تو انہوں نے ایسا کرارا جواب اور مجرم امریکی فوجیوں کو ایسا سبق دیا کہ صیہونیوں نے محاذ آرائی پر فرار کو ترجیح دی اور متکبر ٹرمپ کی عالمی ساکھ کو داغدار کر دیا۔ ان دنوں اسلامی ایران پر حملہ کرنے کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں انصار اللہ کے پرجوش جوانوں نے سختی سے اعلان کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ امریکی فوجیوں کے ساتھ انتھک جنگ لڑیں گے۔ خدا انصار اللہ کے جنگجوؤں کو سلامت رکھے، جنہوں نے خطے میں بڑے شیطان اور اس کے شیطانی کتے کو بہت غصہ دلایا اور یمنیوں نے دنیا کو کھا جانے والے امریکہ کی تسلط کو توڑ دیا۔ الیس اللہ بالصبح قریب۔ تحریر: سید محمد حسینی

صیہونی حکومت کے سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمنی انصار اللہ کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے کہا: یہ گروہ "زمین" یا "سرحدوں" کے لیے نہیں لڑ رہا ہے بلکہ یہ نظریاتی مقاصد کے لئے کام کر رہا ہے۔ جی ہاں، صہیونیوں نے اس بات کو صحیح طور پر سمجھا! اور یمنی انصار اللہ کے ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک استقامت کا راز  بھی یہی ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور فتح الہیٰ کے یقین کے ساتھ لڑتے ہیں۔ اگر ان کے صرف مادی مقاصد ہوتے تو وہ اس طرح کبھی بھی علاقائی اور عالمی طاقتوں سے لڑنے کے قابل نہ ہوتے اور میدان جنگ کو  چھوڑ چکے ہوتے۔ اپریل 2015ء سے یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اور متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، مصر، مراکش، کویت اور سوڈان جیسے ممالک کی شمولیت سے ایک اتحاد تشکیل دیا گیا۔

یعنی انصار اللہ کے خلاف امریکہ، کینیڈا، انگلستان، فرانس، ترکیہ اور عرب لیگ سمیت کئی ممالک شامل رہے۔ اس اتحاد نے یمنیوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور بعض اوقات لاجسٹک مدد بھی فراہم کی ہے۔ صیہونی حکومت بھی اس اتحاد کے شانہ بشانہ ایک خاموش حامی بن کر یمنیوں کے خلاف اپنا حصہ  ڈالتی رہی۔ برسوں سے اس اتحاد نے یمن کے مزاحمتی اور بہادر عوام کو شدید ترین بمباری، حملوں، پابندیوں اور مکمل محاصرے کا نشانہ بنایا، لیکن یمنی جنگجوؤں اور مجاہدین نے بہت سے شہیدوں اور زخمیوں کی قربانی دیکر حتیٰ وسیع قحط کو برداشت کرنے کے باوجود بھی ایک مردانہ جہاد کیا اور اس علاقائی اور عالمی اتحاد کو ناکام بنا دیا۔

یقیناً اگر ان کا معرکہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ نہ ہوتا اور ان کا ایمان پختہ اور ثابت قدم نہ ہوتا تو وہ ابتدائی دنوں یا مہینوں میں ہی تسلیم و رضا کا سفید جھنڈا بلند کر دیتے۔ لیکن یہ بہادر لوگ سرزمین یمن سے ہیں، جو مالک اشتر، اویس قرنی، کمیل، مقداد، حجر بن عدی، ہانی بن عروہ جیسی بہادر اور ثابت قدم شخصیات کی طرح میدان میں حاضر رہیں۔ یمنی امام حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وفادار ہیں اور اس سرزمین کے ہیرو ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت ولی عصر (ع) کے نقش قدم پر چلنے والوں میں یمن کے کمانڈر بھی ہونگے، جو امام زمانہ کے مددگار ہوں گے۔

 یمن کے جوان کئی سالوں سے جاری یمنی جنگ کے چیلنجوں اور مشکلات کو برداشت کرنے کے باوجود فوری طور پر غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ میزائل داغ کر اور صیہونی حکومت کے سامان اور ہتھیاروں سے لدے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو روک کر ان سے امن و سکون چھین رہے ہیں۔ یمنی مجاہدین قابض غاصبوں کے لئے خوف و ہراس کا باعث ہیں اور جب ٹرمپ نے انصار اللہ کو ایک زبردست حملے سے تباہ کرنے کی تصدیق کی تو انہوں نے ایسا کرارا جواب اور مجرم امریکی فوجیوں کو ایسا سبق دیا کہ صیہونیوں نے محاذ آرائی پر فرار کو ترجیح دی اور متکبر ٹرمپ کی عالمی ساکھ کو داغدار کر دیا۔

ان دنوں اسلامی ایران پر حملہ کرنے کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں انصار اللہ کے پرجوش جوانوں نے سختی سے اعلان کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ امریکی فوجیوں کے ساتھ انتھک جنگ لڑیں گے۔ خدا انصار اللہ کے جنگجوؤں کو سلامت رکھے، جنہوں نے خطے میں بڑے شیطان اور اس کے شیطانی کتے کو بہت غصہ دلایا اور  یمنیوں نے دنیا کو کھا جانے والے امریکہ کی تسلط کو توڑ دیا۔ الیس اللہ بالصبح قریب۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی فوجیوں ایران پر حملہ انصار اللہ کے کے خلاف کرنے کی اور اس

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل