Islam Times:
2026-06-02@23:56:00 GMT

انصاراللہ کی فاتحانہ مزاحمت کا راز

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

انصاراللہ کی فاتحانہ مزاحمت کا راز

اسلام ٹائمز: یمنی مجاہدین قابض غاصبوں کیلئے خوف و ہراس کا باعث ہیں اور جب ٹرمپ نے انصار اللہ کو ایک زبردست حملے سے تباہ کرنے کی تصدیق کی تو انہوں نے ایسا کرارا جواب اور مجرم امریکی فوجیوں کو ایسا سبق دیا کہ صیہونیوں نے محاذ آرائی پر فرار کو ترجیح دی اور متکبر ٹرمپ کی عالمی ساکھ کو داغدار کر دیا۔ ان دنوں اسلامی ایران پر حملہ کرنے کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں انصار اللہ کے پرجوش جوانوں نے سختی سے اعلان کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ امریکی فوجیوں کے ساتھ انتھک جنگ لڑیں گے۔ خدا انصار اللہ کے جنگجوؤں کو سلامت رکھے، جنہوں نے خطے میں بڑے شیطان اور اس کے شیطانی کتے کو بہت غصہ دلایا اور یمنیوں نے دنیا کو کھا جانے والے امریکہ کی تسلط کو توڑ دیا۔ الیس اللہ بالصبح قریب۔ تحریر: سید محمد حسینی

صیہونی حکومت کے سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمنی انصار اللہ کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے کہا: یہ گروہ "زمین" یا "سرحدوں" کے لیے نہیں لڑ رہا ہے بلکہ یہ نظریاتی مقاصد کے لئے کام کر رہا ہے۔ جی ہاں، صہیونیوں نے اس بات کو صحیح طور پر سمجھا! اور یمنی انصار اللہ کے ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک استقامت کا راز  بھی یہی ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور فتح الہیٰ کے یقین کے ساتھ لڑتے ہیں۔ اگر ان کے صرف مادی مقاصد ہوتے تو وہ اس طرح کبھی بھی علاقائی اور عالمی طاقتوں سے لڑنے کے قابل نہ ہوتے اور میدان جنگ کو  چھوڑ چکے ہوتے۔ اپریل 2015ء سے یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اور متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، مصر، مراکش، کویت اور سوڈان جیسے ممالک کی شمولیت سے ایک اتحاد تشکیل دیا گیا۔

یعنی انصار اللہ کے خلاف امریکہ، کینیڈا، انگلستان، فرانس، ترکیہ اور عرب لیگ سمیت کئی ممالک شامل رہے۔ اس اتحاد نے یمنیوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور بعض اوقات لاجسٹک مدد بھی فراہم کی ہے۔ صیہونی حکومت بھی اس اتحاد کے شانہ بشانہ ایک خاموش حامی بن کر یمنیوں کے خلاف اپنا حصہ  ڈالتی رہی۔ برسوں سے اس اتحاد نے یمن کے مزاحمتی اور بہادر عوام کو شدید ترین بمباری، حملوں، پابندیوں اور مکمل محاصرے کا نشانہ بنایا، لیکن یمنی جنگجوؤں اور مجاہدین نے بہت سے شہیدوں اور زخمیوں کی قربانی دیکر حتیٰ وسیع قحط کو برداشت کرنے کے باوجود بھی ایک مردانہ جہاد کیا اور اس علاقائی اور عالمی اتحاد کو ناکام بنا دیا۔

یقیناً اگر ان کا معرکہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ نہ ہوتا اور ان کا ایمان پختہ اور ثابت قدم نہ ہوتا تو وہ ابتدائی دنوں یا مہینوں میں ہی تسلیم و رضا کا سفید جھنڈا بلند کر دیتے۔ لیکن یہ بہادر لوگ سرزمین یمن سے ہیں، جو مالک اشتر، اویس قرنی، کمیل، مقداد، حجر بن عدی، ہانی بن عروہ جیسی بہادر اور ثابت قدم شخصیات کی طرح میدان میں حاضر رہیں۔ یمنی امام حسین علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وفادار ہیں اور اس سرزمین کے ہیرو ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت ولی عصر (ع) کے نقش قدم پر چلنے والوں میں یمن کے کمانڈر بھی ہونگے، جو امام زمانہ کے مددگار ہوں گے۔

 یمن کے جوان کئی سالوں سے جاری یمنی جنگ کے چیلنجوں اور مشکلات کو برداشت کرنے کے باوجود فوری طور پر غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ میزائل داغ کر اور صیہونی حکومت کے سامان اور ہتھیاروں سے لدے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو روک کر ان سے امن و سکون چھین رہے ہیں۔ یمنی مجاہدین قابض غاصبوں کے لئے خوف و ہراس کا باعث ہیں اور جب ٹرمپ نے انصار اللہ کو ایک زبردست حملے سے تباہ کرنے کی تصدیق کی تو انہوں نے ایسا کرارا جواب اور مجرم امریکی فوجیوں کو ایسا سبق دیا کہ صیہونیوں نے محاذ آرائی پر فرار کو ترجیح دی اور متکبر ٹرمپ کی عالمی ساکھ کو داغدار کر دیا۔

ان دنوں اسلامی ایران پر حملہ کرنے کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں انصار اللہ کے پرجوش جوانوں نے سختی سے اعلان کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ امریکی فوجیوں کے ساتھ انتھک جنگ لڑیں گے۔ خدا انصار اللہ کے جنگجوؤں کو سلامت رکھے، جنہوں نے خطے میں بڑے شیطان اور اس کے شیطانی کتے کو بہت غصہ دلایا اور  یمنیوں نے دنیا کو کھا جانے والے امریکہ کی تسلط کو توڑ دیا۔ الیس اللہ بالصبح قریب۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی فوجیوں ایران پر حملہ انصار اللہ کے کے خلاف کرنے کی اور اس

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان