اکاؤنٹس میں 2 ارب روپے سے زائد منتقلی کا اسکینڈل، نیب نے ڈی جی افسران کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے آفیشل سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹ سے 2 ارب روپے سے زائد رقم کی منتقلی کے اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے موجودہ ڈی جی سمیت 8 سابق ڈی جی آر ڈی اے افسران اور دیگر متعلقہ افراد کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے مجموعی طور پر 48 افراد سے اثاثہ جات کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ اس فہرست میں لاہور، کراچی، ملیر، پشاور، گوادر اور راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے چیئرمینز اور ڈی جیز بھی شامل ہیں۔
نیب نے موجودہ ڈی جی آر ڈی اے کنزہ مرتضیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، جبکہ سابق ڈی جیز عامرہ خان، چوہدری مقبول دھاولہ اور مرحوم عبد الستار عیسانی کی جائیدادوں کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے۔
اسی طرح سابق ڈی جیز ندیم احمد ابڑو، گلزار حسین شاہ، کیپٹن (ر) طاہر ظفر عباسی اور سیف انور جپہ کی پراپرٹیز کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
تحقیقات کے دائرے میں سابق ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس آصف جنجوعہ، شاہد مارتھ، سہیل کیفی، خالد جاوید گورایا، ملک غضنفر علی اور صبا گل کے اثاثے بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔
مزید برآں، مرحوم ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس جنید تاج، ان کے والد محمد تاج اور بھائیوں افضال، جمال، مبین اور احتشام کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی نیب نے طلب کی ہیں۔
نیب حکام کے مطابق جن دیگر افراد کے اکاؤنٹس میں مشتبہ رقوم منتقل ہوئیں، ان سب کی پراپرٹی تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ یہ تمام تفصیلات قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سب سیکشن 19 کے تحت طلب کی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی جائیدادوں تفصیلات بھی کی تفصیلات طلب کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔