تحصیلدار چوہدری شفقت کو سکھ برادری کا خصوصی تحفہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
تحصیلدار چوہدری شفقت کو سکھ برادری کا خصوصی تحفہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز
حسن ابدال: پاکستانی قوم کے اعلیٰ اخلاق، رواداری اور مثالی مہمان نوازی سے متاثر ہو کر سکھ برادری نے محبت اور احترام کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ سکھ کمیونٹی حسن ابدال کے صدر کلیان سنگھ ولد ایا سنگھ نے تحصیلدار حسن ابدال و فتح جنگ چوہدری شفقت کی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور خوش اخلاقی سے متاثر ہو کر انہیں بھارت سے خصوصی طور پر منگوائی گئی روایتی شال تحفے میں پیش کی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی قوم کے اخلاق سے متاثر ہو کر سکھ برادری نے محبت کا کھل کر اظہار کر دیا۔ کلیان سنگھ ولد ایا سنگھ صدر لوکل سنگت سکھ کمیونٹی حسن ابدال نے چوھدری شفقت تحصیلدار حسن ابدال ،فتح جنگ کے بہترین انتظامی امور سے متاثر ہو کر انڈیا سے روائتی شال منگوا کر تحفہ میں پیش کی جو کہ اعلئ مہمان نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلکی مروت میں پولیس مقابلے میں تین ڈاکو ہلاک سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت ایف آئی اے اسلام آباد زون میں تقرری تبادلے ،، کون کون سے آفیسرز / آفیشلز تبدیل ہوئے ،، دستاویز و تفصیلات سب نیوز... امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ایران اپنے دفاع کے لئے تیار ہے:سفیر عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، محمود اچکزئی پشاور چھوڑ کر جارہا ہوں، غلام احمد بلور کا سیاست سے علیحدگی کا اعلان مقامی برانڈ کی گاڑیاں اور سستی الیکٹرک بائیکس کے فروغ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے: سید یوسف رضا گیلانی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سکھ برادری
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔