ہفتہ وار ڈراؤنے خواب دیکھنے والے افراد میں موت کا خطرہ تین گنا زیادہ، نئی تحقیق میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن افراد کو ہر ہفتے ڈراؤنے خواب آتے ہیں، ان میں 75 سال کی عمر سے پہلے موت کا خطرہ تقریباً تین گنا زیادہ ہوتا ہے، بالمقابل وہ لوگ جو شاذ و نادر ہی ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں۔
یہ تحقیق یورپی اکیڈمی آف نیورولوجی کے کانگریس میں پیش ہونے والے مقالے پر مبنی ہے اور عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ محققین نے چار بڑے طویل المدتی مطالعوں میں 26 سے 74 سال کے درمیان ہزاروں افراد کا ڈیٹا تجزیہ کیا۔ شرکاء نے مطالعے کے آغاز میں بتایا کہ انہیں ڈراؤنے خواب کتنی بار آتے ہیں، جس کے بعد محققین نے تقریباً 18 سے 19 سال تک ان کی صحت اور زندگی کے نتائج کا جائزہ لیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ ہفتہ وار ڈراؤنے خواب دیکھنے والے افراد میں نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ جسم میں اسٹریس ہارمونز، جیسے کورٹیسول کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں حیاتیاتی عمر تیز ہوتی ہے اور خلیوں کی صحت متاثر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محققین نے عمر، جنس، تمباکو نوشی، ذہنی اور جسمانی صحت جیسے دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔
تحقیق کے مطابق یہ پہلا بڑا مطالعہ ہے جس نے ڈراؤنے خواب اور جلد موت کے خطرے کے درمیان تعلق واضح طور پر ثابت کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار ڈراؤنے خواب صرف ذہنی دباؤ کے آثار نہیں بلکہ طبی طور پر سنگین خطرات سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ بار بار ڈراؤنے خواب دیکھنے والے افراد کو صرف نیند کی وجہ سے پریشان نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے صحت کا سنگین اشارہ سمجھ کر نیند کے معیار، ذہنی دباؤ اور مجموعی صحت کے بارے میں پیشہ ورانہ مشورہ لینا ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈراؤنے خواب
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔