بسنت 2026 کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے لاہور میں سخت حفاظتی انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت لاہور میں بسنت 2026 کے لیے ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں سخت حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی نگرانی میں ہاؤسنگ سوسائٹیز، اندرون شہر، کمرشل عمارتوں اور چھتوں پر میلے کے دوران شہری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج، پتنگ سازوں کے پاس آرڈرز کی بھر مار
ڈپٹی کمشنر لاہور نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ 30 افراد یا اس سے زائد گنجائش والی نجی اور کمرشل عمارتوں کی چھتوں پر بسنت کے دوران این او سی کے بغیر کوئی اجتماع منعقد نہ کیا جائے۔ اجازت نامے کے لیے شہری اپنے اصل شناختی کارڈ کی تصاویر، ملکیتی دستاویزات یا کرایہ نامہ، اور کرایہ دار ہونے کی صورت میں مالک مکان کی رضامندی کا خط جمع کرائیں۔
ضلعی انتظامیہ نے چھتوں کے استعمال اور بسنت کے 12 نکاتی کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیے ہیں تاکہ شہریوں اور مہمانوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ این او سی کے حصول کے لیے چھت کی تازہ ترین واضح تصاویر بھی فراہم کرنا لازمی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز منظور شدہ عمارتوں اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کریں گے اور دستاویزات کی تصدیق کے بعد فوری اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت سے قبل لاہور کے فصیل بند شہر میں 346 غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی
ڈرون کیمروں اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے شہر بھر کی چھتوں کی فضائی نگرانی کی جائے گی تاکہ ہجوم منظم رہے اور کسی قسم کا حادثہ یا غیر قانونی اجتماع نہ ہو۔ شہریوں کے لیے آن لائن پورٹل کے ذریعے اجازت نامے کا آسان طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ این او سی کے حصول میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا کہ این او سی کا مقصد شہریوں کی حفاظت اور ہجوم کو منظم رکھنا ہے، اور بسنت کے دوران ہر اقدام قانونی اور محفوظ طریقے سے کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت لاہور مریم نواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ