Islam Times:
2026-07-24@02:42:26 GMT

موضوع: شہید مرتضیٰ مطہری اور الحاد

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںپروگرام دین و دنیا
موضوع: شہید مرتضیٰ مطہری اور الحاد
میزبان: محمد سبطین علوی
 مہمان: حجہ الاسلام والمسلمین جناب  زائر زیدی صاحب
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات گفتگو:
????شہید مطہری کے الحاد کے رد میں نمایاں کارہائے علمی
⚫شہید مطہری کی الحاد کے مقابلے میں اہم کتابیں
????شہید مطہری کی کتابوں کی الحاد کے موضوع پر مطالعہ کی اہمیت
خلاصہ گفتگو:
شہید مرتضیٰ مطہریؒ معاصر اسلامی فکر کے اُن عظیم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے الحاد کے فکری چیلنج کا گہرے علم، عقلی استدلال اور قرآنی بصیرت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ انہوں نے مغربی فلسفہ، مادّیت اور دہریت کے نظریات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور پھر اسلامی فلسفے کی روشنی میں ان کے علمی رد پیش کیے۔ خاص طور پر مارکسزم اور وجودیت جیسے مکاتبِ فکر پر ان کی تنقید فکری دنیا میں ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
 
الحاد کے مقابلے میں شہید مطہریؒ کی اہم کتابوں میں علل گرایش به مادیگری، اصول فلسفه و روش رئالیسم، انسان و ایمان اور خدا در اندیشه انسان نمایاں ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے خدا کے وجود، انسان کی فطرت، ایمان اور عقل کے باہمی تعلق کو واضح دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
 
آج کے دور میں، جب نوجوان نسل مختلف فکری شبہات کا شکار ہے، شہید مطہریؒ کی ان کتابوں کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔ یہ کتب نہ صرف الحاد کے اعتراضات کا جواب دیتی ہیں بلکہ قاری میں فکری اعتماد اور دینی بصیرت بھی پیدا کرتی ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہید مطہری الحاد کے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی