موضوع: شہید مرتضیٰ مطہری اور الحاد
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںپروگرام دین و دنیا
موضوع: شہید مرتضیٰ مطہری اور الحاد
میزبان: محمد سبطین علوی
مہمان: حجہ الاسلام والمسلمین جناب زائر زیدی صاحب
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات گفتگو:
????شہید مطہری کے الحاد کے رد میں نمایاں کارہائے علمی
⚫شہید مطہری کی الحاد کے مقابلے میں اہم کتابیں
????شہید مطہری کی کتابوں کی الحاد کے موضوع پر مطالعہ کی اہمیت
خلاصہ گفتگو:
شہید مرتضیٰ مطہریؒ معاصر اسلامی فکر کے اُن عظیم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے الحاد کے فکری چیلنج کا گہرے علم، عقلی استدلال اور قرآنی بصیرت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ انہوں نے مغربی فلسفہ، مادّیت اور دہریت کے نظریات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور پھر اسلامی فلسفے کی روشنی میں ان کے علمی رد پیش کیے۔ خاص طور پر مارکسزم اور وجودیت جیسے مکاتبِ فکر پر ان کی تنقید فکری دنیا میں ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
الحاد کے مقابلے میں شہید مطہریؒ کی اہم کتابوں میں علل گرایش به مادیگری، اصول فلسفه و روش رئالیسم، انسان و ایمان اور خدا در اندیشه انسان نمایاں ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے خدا کے وجود، انسان کی فطرت، ایمان اور عقل کے باہمی تعلق کو واضح دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
آج کے دور میں، جب نوجوان نسل مختلف فکری شبہات کا شکار ہے، شہید مطہریؒ کی ان کتابوں کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔ یہ کتب نہ صرف الحاد کے اعتراضات کا جواب دیتی ہیں بلکہ قاری میں فکری اعتماد اور دینی بصیرت بھی پیدا کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید مطہری الحاد کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔