میئر کراچی مرتضیٰ وہاب—فائل فوٹو

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ جو کھالیں جمع کرتے یا کھینچتے ہیں ان سے امید نہ رکھیں۔

میئر کراچی نے فریئر ہال میں گیندے کے پھولوں کی 3 روزہ نمائش کا افتتاح کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی خورشیدی اور خالد مقبول صدیقی کو وزیرِ اعظم کو کہنا چاہیے کہ گل پلازا سانحے میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، تاجر و صنعت کار اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں مگر وفاق نے کچھ نہیں کیا، مجھے وزیرِ اعظم کا گل پلازا سانحے پر فون نہیں آیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جنہوں نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا کہا تھا وہ خود سانحے کے مقام پر نہیں پہنچے، ایم کیو ایم کی قیادت اپنوں کی نہیں ہوئی آپ کچھ بھی کر لیں، ایم کیوایم خوش نہیں ہو گی۔

مرتضیٰ وہاب کی ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو ساتھ ملکر کام کرنے کی دعوت

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ چربی مافیا عید کے دنوں میں کافی فعال ہو جاتا ہے، چربی مافیا کے سلسلے میں کراچی پولیس چیف سے رابطہ کیا تھا، کراچی میں 144 ایف آئی آر کاٹی گئیں اور 348 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی میں سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں اچھے کام پر آپ تمام کو شاباش دینا چاہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی والے کہتے ہیں کہ اچھا ہے تو انہوں نے کیا ہے، برا ہے تو پیپلز پارٹی نے کیا ہے، یہ تنقید کرتے رہیں، باتیں کرتے رہیں، ہم کام کرتے رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی سطح پر گل پلازا کی تحقیقات کر لی گئی ہیں، حکومت کی کمیٹی نے تفتیش کی اور فیصلے کیے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سیاسی رسہ کشی سے شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے، تمام لوگوں کو کہتا ہوں کہ مل کر کام کریں گے تو شہر کے مسائل حل ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مشکل حالات میں وسائل کو استعمال کر رہے ہیں اور جہاں غلطی ہو گی میں اپنے عملے کی سرزنش کروں گا۔

میئر کراچی نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی تعصب کی وجہ سے شہر کو نیچا دکھا رہے ہیں، سانحۂ بلدیہ ٹاؤن کے وقت وفاق نے کراچی کی مدد کی تھی، سانحۂ گل پلازا پر کسی کو عدالت جانا ہے تو ضرور جائے۔

 انہوں نے کہا کہ کراچی، لاہور، فیصل آباد، پنڈی میں کہیں سانحہ ہو گا تو میں اس کو سانحہ کہوں گا، گل پلازا دل دہلا دینے والا سانحہ ہے، گل پلازا واقعے پر سیاسی بیان بازی کرنے والے کہیں غائب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہاں فریئر ہال میں 100 سال پرانے درخت ہیں جو کراچی والوں کے لیے ہیں، آج درخت لگانا معاشرے کے لیے کام کرنے کے برابر ہے، بلدیہ عظمیٰ سول سائٹی کو ممکن مدد فراہم کرے گی، جہاں جگہ ہے وہاں نیم، گل موہر،  برگد، چیکو، امرود اور بادام کے درخت لگائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا ہے کہ وہاب نے کہا میئر کراچی نے کہا کہ گل پلازا انہوں نے ایم کی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی