گاندھی کی وراثت مٹانے کا الزام، آر ایس ایس اور بی جے پی تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
30 جنوری کو بھارت میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کی برسی منائی جاتی ہے، جنہیں 1948 میں ناتھورام گوڈسے نے قتل کیا تھا۔ ناقدین کے مطابق گوڈسے کا تعلق اسی نظریاتی ماحول سے تھا جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے گرد تشکیل پایا، جس نے گاندھی کے سیکولر، ہمہ گیر اور عدم تشدد پر مبنی بھارت کے تصور کی مخالفت کی۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے نظریات سے متاثرہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے گاندھی کی امن، رواداری اور ہم آہنگی پر مبنی پالیسیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکمران طبقہ ان نظریات پر عمل پیرا ہے جنہیں خود گاندھی ایک ’’فرقہ وارانہ اور آمرانہ سوچ‘‘ قرار دیتے تھے۔
گاندھی کے قاتل کی مبینہ پذیرائی پر تنقیدتنقید کا ایک بڑا نکتہ یہ بھی ہے کہ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے ناتھورام گوڈسے کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔ خاص طور پر بھوپال سے بی جے پی کی ایک رکنِ پارلیمنٹ کے گوڈسے کو ’’بھارت کا قابلِ فخر بیٹا‘‘ قرار دینے کے بیان کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ناقدین کے مطابق گاندھی کا ہندو مت نہ تو عدم برداشت پر مبنی تھا اور نہ ہی کسی ایک مذہب کو فوقیت دیتا تھا۔ اس کے برعکس، آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریات میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ’’اندرونی خطرہ‘‘ سمجھا جاتا ہے، جو گاندھی کے سیکولر بھارت کے تصور سے صریحاً متصادم ہے۔
ہندو مسلم اتحاد کا خواب اور انتہاپسندوں کی بے چینیتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گاندھی کا ہندو مسلم اتحاد کا نظریہ آج بھی ہندو انتہا پسندوں کو بے چین کرتا ہے۔ الزام ہے کہ بی جے پی کے بعض رہنما گاندھی کی تاریخی حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کو گاندھی سے بڑا برانڈ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی نے ایک عسکری، سیکیورٹی پر مبنی اور اکثریتی سیاست کو فروغ دیا، جس کے باعث بھارت کی وہ اخلاقی بنیادیں کمزور ہو گئیں جن کے لیے گاندھی نے جدوجہد کی تھی۔
رسمی خراجِ عقیدت اور عملی تضادناقدین کے مطابق ہر سال 30 جنوری کو وزیراعظم نریندر مودی راج گھاٹ پر رسمی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، مگر دوسری جانب ان کی حکومت اور آر ایس ایس سے وابستہ حلقے معاشرے میں تقسیم کو فروغ دیتے، گاندھی سے منسوب اداروں کو کمزور کرتے اور پسِ پردہ گوڈسے کی تعریف کی اجازت دیتے ہیں۔
گاندھی کے نام کے خاتمے پر اعتراضبیان میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (MGNREGA) جیسے قوانین سے گاندھی کا نام ختم کر کے اسے ’’گرام گارنٹی قانون‘‘ میں بدلنا گاندھی کی وراثت کو مٹانے کی ایک واضح کوشش ہے۔
ناقدین کے مطابق گاندھی کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا مطلب صرف تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ اس نفرت کو مسترد کرنا ہے جس نے گاندھی کی جان لی۔ ان کے بقول، دن میں خراجِ عقیدت اور رات میں نظریاتی مٹاؤ ایک کھلی منافقت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ناقدین کے مطابق آر ایس ایس گاندھی کی گاندھی کے بی جے پی
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔