بھارت میں نیپاہ وائرس کا سایہ اور ٹی20 ورلڈ کپ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بھارت میں مہلک نیپا وائرس کے حالیہ کیسز نے ماہرینِ صحت کے ساتھ ساتھ عالمی اسپورٹس حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب یہ وائرس ماضی میں 40 سے 70 فیصد تک اموات کا باعث بن چکا ہے، بھارت میں شیڈول آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ حیران کن طور پر اس معاملے پر نہ تو آئی سی سی کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی طرف سے کوئی نمایاں ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی غیر ملکی ٹیموں، بالخصوص انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ بعض کھلاڑیوں نے نجی گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں کھیلنے پر فکرمند ہیں جہاں مہلک وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات موجود ہوں، تاہم سرکاری سطح پر بیانات انتہائی محتاط رکھے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب انشورنس کمپنیاں بھی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بعض پالیسیوں پر نظرِ ثانی یا اضافی شرائط عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو اس خطرے کی سنجیدگی کی واضح علامت ہے۔
بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور کسی قسم کا خطرہ موجود نہیں۔ اس کے ساتھ یہ مثال بھی دی جا رہی ہے کہ جاپان اور مراکش جیسے ممالک میں بھی بین الاقوامی میچز منعقد ہو چکے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق ان ممالک کے صحت اور صفائی کے عالمی معیار بھارت سے کہیں بہتر ہیں، جبکہ بھارت میں بنیادی صحت کے مسائل اور بڑے اجتماعات وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کے داخلے کو محدود کرنے یا مکمل پابندی کی تجویز زیرِ غور آئی، مگر عوامی ردِعمل، ممکنہ احتجاج اور سیاسی دباؤ کے باعث اس پر فیصلہ مؤخر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے کسی بھی اقدام سے ورلڈ کپ کی معاشی آمدن اور عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی کھیلوں میں دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے؟ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر اسی نوعیت کی صورتحال کسی اور ملک میں ہوتی تو شاید میچز کی منتقلی، واضح ہیلتھ ایڈوائزریز اور حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کر دیے جاتے۔
سپورٹس کے سینئر مبصر راجہ محسن کے مطابق نیپا وائرس کوئی افواہ نہیں بلکہ سائنسی طور پر تسلیم شدہ مہلک حقیقت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں خاموشی، تاخیر اور سیاسی مصلحتیں نہ صرف کھلاڑیوں اور شائقین بلکہ عالمی کھیل کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
آخر میں یہی سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کوئی سانحہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آئی سی سی، میزبان ملک، یا وہ عالمی ادارے جو اس وقت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ تاریخ عموماً یہی سوال دہراتی ہے کہ جب خطرہ واضح تھا، تو بروقت فیصلہ کیوں نہ کیا گیا؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔
بھارت نیپا وائرس ورلڈ کپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت نیپا وائرس ورلڈ کپ بھارت میں کے مطابق ورلڈ کپ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز