علاقائی کشیدگی کے حوالے سے ایرانی و ترک صدور کی ٹیلیفونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ترک ایوان صدر نے، خطے میں بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے ترک اور ایرانی صدور کی ٹیلیفونک گفتگو کا اعلان کیا ہے اسلام ٹائمز۔ ایرانی و ترک صدور، ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور رجب طیب اردوغان نے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔ ترک ایوان صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، دونوں صدور نے ترکی اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کے دوران، اردوغان نے تہران و واشنگٹن کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ترکی کی آمادگی پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ ترکی، ایران و امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے نیز مسائل کے حل کے لئے سہولتکاری کو بھی تیار ہے۔ انقرہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، جمعے کے روز رجب طیب اردوغان کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔