ایس ایس جی کمانڈوز ہیڈ کوارٹرز میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مشق
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز میں دہشت گردوں اور ہائی ویلیو ٹارگٹس کو کامیابی سے گرفتار کرنے سے متعلق مشق کا انعقاد کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار افواج پاکستان کے قابل فخر ایس ایس جی کمانڈوز آج بھی ملک کے طول وعرض میں دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
افواج پاکستان نے پاک سر زمین کے تحفظ کے لیے لاتعداد جانوں کی قربانیاں دیں اور ایسے میں افواج پاکستان کے قابل فخر ایس ایس جی کمانڈوز نے بھی دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا اور لاتعداد قربانیاں دیں۔
اسی ضمن میں ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز میں دہشت گردوں اور ہائی ویلیو ٹارگٹس کو کامیابی سے گرفتار کرنے سے متعلق مشق کا انعقاد کیا گیا۔ مشق میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن اور ہائی ویلیو ٹارگٹ کی گرفتاریوں کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
دورے کے دوران ہائی ویلیو ٹارگٹ کی گرفتاری اور بحفاظت نکالنے کے آپریشن کی عملی مشق پیش کی گئی، جس میں ایویزیو ڈرائیونگ اور کاؤنٹر اٹیک ٹیموں کے فوری ردِعمل کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔
پاکستان کی اسپیشل فورسزکا یہ یونٹ دشمن کی قید سے یرغمالیوں کی بازیابی اور انتہائی سنگین سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔
اس یونٹ نے بے شمار آپریشنز میں حصہ لیا جن میں سے چند ایک آپریشن پین آم 1986ء ، آپریشن سن رائز لال مسجد 2007ء ، آپریشن جانباز جی ایچ کیو 2009ء، اے پی ایس پشاور 2014ء ، بنوں سی ٹی ڈی کمپلیکس 2022ء اور جعفر ایکسپریس 2025ء قابل ذکر ہیں۔
یہ ایلیٹ فورس شہری جنگ، اینٹی ہائی جیکنگ آپریشنز ہائی ویلیو ٹارگٹ کی گرفتاری میں مہارت رکھتی ہے۔ اس یونٹ کے ہر فرد افسر سے لے کر سپاہی تک کا انتخاب متعدد سخت مراحل، ٹیسٹ اور خصوصی تربیتی کورسز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائی ویلیو ایس ایس جی کے خلاف کیا گیا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔