انسپکٹر اورنگزیب پر چمک کے سنگین الزامات دفعہ 144اور عدالتی احکامات نظر انداز
بلاک 10پلاٹ 704 کی پرانی عمارت پر بالائی منزل کی بلا روک ٹوک تعمیر جاری

گلستان جوہر کے علاقے میں ہونے والی غیر قانونی اور خطرناک تعمیرات کی تحقیقات نے ایک سنگین انکشاف کیا ہے ۔ مقامی رہائشیوں، سرکاری ریکارڈز اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک انسپکٹر اورنگزیب پر الزام ہے کہ وہ بلڈنگ مافیا سے ساز باز رکھتے ہوئے ، نہ صرف خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کرتا ہے بلکہ رشوت لے کر ان غیرقانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق، اورنگزیب کا تعلق علاقے کی نگرانی کرنے والے ایس بی سی اے یونٹ سے ہے ۔ رہائشیوں اور تعمیراتی ٹھیکیداروں کے متعدد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر "پروٹیکشن منی” وصول کرتا ہے ۔ اس کے بدلے میں، وہ نہ تو غیر منظور شدہ منزلیں بنانے سے روکتا ہے ، نہ ہی زمینی منصوبوں پر تجاوزات کو ہٹواتا ہے ، اور نہ ہی خطرناک بجلی کے غیر قانونی کنکشنوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے ۔ مزید یہ کہ جب بھی کوئی رہائشی یا رضاکار تنظیم ایس بی سی اے میں اس کی خلاف ورزیوں کی لکھتی رپورٹ دائر کرتی ہے ، وہ اسے دبا دیتا ہے یا دفعات میں الجھا کر بے اثر کر دیتا ہے ۔جرأت سروے کے دوران حاصل کی گئی زیر نظر تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاک 10 کے پلاٹ نمبر 704 پرانی عمارت پر بالائی منزل کی تعمیر کا عمل جاری ہے ۔یہ صورت حال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب دیکھا جائے کہ بعض مقامات پر تو ڈپٹی کمشنر کے دفعہ 144 کے تحت پابندی کے احکامات اور حتیٰ کہ عدالتوں کے تعمیراتی کام روکنے کے احکامات بھی موجود ہیں۔ مگر اورنگزیب اور اس جیسے دیگر افسران کی مبینہ ساز باز اور نگرانی میں، بلڈنگ مافیا رات کی تاریکی میں ہی نہیں بلکہ دن دہاڑے ان احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے اور تعمیرات جاری رکھتی ہے ۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "جب انسپکٹر صاحب ہی مافیا کے ساتھ ساز باز رکھیں، تو ہم کس سے شکایت کریں؟ وہ آتے ہیں، کاغذات دیکھتے ہیں، پھر ساز باز کرکے چلے جاتے ہیں۔ انہیں بھی حصہ ملتا ہے اور مافیا بھی بے خوف ہو کر عمارتیں کھڑی کرتی چلی جاتی ہے ۔ "شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت، اینٹی کرپشن اتھارٹی اور ایس بی سی اے کے اعلیٰ حکام فوری طور پر انسپکٹر اورنگزیب اور دیگر مبینہ طور پر ملوث افسران کے خلاف تفتیش کا احکام جاری کریں، ان کے تمام غیرقانونی معاملات اور اثاثوں کا جائزہ لیں، اور انہیں فوری طور پر معطل کرکے عدالت کے حوالے کیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک اداروں کے اندر بیٹھے "بدعنوان عناصر” باہر نہیں نکالے جاتے ، گلستان جوہر سمیت پورے شہر میں تعمیراتی ضابطے کبھی نافذ نہیں ہو سکیں گے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن