بھارت؛ ماڈل بننے کی دیوانی بیوی نے شوہر کے بندریا کہنے پر خودکشی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں 28 سالہ خاتون نے شوہر کے معمولی مذاق پر دل برداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اپنی نوعیت کا یہ منفرد واقعہ لکھنؤ کے علاقے اندرا نگر میں پیش آیا۔ خاتون کی شناخت تنو سنگھ کے نام سے ہوئی۔
جو ماڈلنگ کے شعبے میں اپنا نام بنانا چاہتی تھی۔ جس سے وہ شہرت حاصل کرسکے۔ وہ دن سجتی سنورتی رہتی تھی اور آئینے کے سامنے ماڈلنگ کرتی۔
تاہم خاتون کے شوہر اور سسرال والے اس شوق سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے بلکہ تنو کی حوصلہ شکنی کرتے رہتے تھے۔
واقعے والے دن بھی تنو سنگھ اپنے خوابوں اور ان کی تعبیر کے بارے میں بلند بانگ دعوے کر رہی تھی اور اپنے حسن کے قصیدے پڑھ رہی تھی۔
یہ سب سُن کر تنو کے شوہر راہول سنگھ نے اپنے گھر والوں اور خاندان کے دیگر افراد کے سامنے مذاق میں بیوی کو بندریا کہہ کر پکارا۔
اہل خانہ کے بقول تنو کو شوہر کا یہ مذاق اتنا ناگوار گزرا کہ وہ فوراً غصے میں اپنے کمرے میں چلی گئیں اور اندر سے کنڈی لگالی۔
شوہر راہول اور گھر والوں نے سمجھا کہ کچھ دیر میں وہ واپس آجائے گی لیکن کافی دیر تک کمرے سے باہر نہ آئی تو راہول نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔
تھوڑی دیر قبل ہنسی مذاق کرنے والے راہول نے کمرے کا منظر دیکھا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس کی بیوی تنو کی لاش پنکھے سے لٹک رہی تھی۔
پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا اور اہل خانہ کے بیانات بھی قلم بند کرلیے۔
میڈیا سے گفتگو میں پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ تنو سنگھ ماڈل بننے کا خواب دیکھ رہی تھی اور وہ اپنے حسن اور شخصیت کے بارے میں بہت حساس تھیں۔
تفتیشی افسر کے بقول اسی لیے شوہر کے اس تبصرے نے تنو کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا اور اس نے انتہائی قدم اُٹھالیا۔
پولیس نے اس بات کی بھی جانچ کی کہ میاں بیوی کے درمیان پہلے سے کوئی تلخی موجود تھی اور سسرال والوں کے مبینہ ظلم یا رویے کے باعث تو خودکشی نہیں کی تاہم اس کے شواہد نہیں ملے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہی تھی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔