کے پی میں منفرد نمبر پلیٹ خریدنے والے شہری کی ڈی جی ایکسائز سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
محکمہ ایکسائزو ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کی جانب سے 27 جنوری 2026 کو منعقدہ “من پسند نمبر پلیٹس” کی نیلامی میں ریکارڈ ساز قیمت ڈیڑھ کروڑ (1.5 کروڑ) روپے میں منفرد نمبر پلیٹ “وزیر ون (Wazir-1)” خریدنے والے شہری حاجی رحمان وزیر نے پشاور کا دورہ کرکے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدالحلیم خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اسلام ٹائمز۔ کے پی میں منفرد نمبر پلیٹ ’وزیر-ون‘ کی نیلامی جیتنے والے شہری کی ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان سے ملاقات ہوئی جس میں عبدالحلیم خان نے شہری کو خوس آمدید کہا۔ محکمہ ایکسائزو ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کی جانب سے 27 جنوری 2026 کو منعقدہ “من پسند نمبر پلیٹس” کی نیلامی میں ریکارڈ ساز قیمت ڈیڑھ کروڑ (1.
ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ شہریوں کو من پسند نمبر پلیٹس کے حصول کے لیے ایسا نظام فراہم کیا جائے جو مکمل طور پر شفاف، آسان اور قابلِ اعتماد ہو۔ انھوں نے کہا کہ یہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کے ہدایات ہیں کہ عوام کی خدمت میں کوئی کثر باقی نہ رہے اور انھیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ کی یہ ریکارڈ نیلامی شہریوں کے اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ ڈی جی ایکسائز نے مزید کہا کہ یہ نیلامیاں نہ صرف خزانے میں ریونیو اضافہ کا مؤثر ذریعہ ہیں بلکہ گاڑیوں کے شوقین افراد کو قانونی، باقاعدہ اور محفوظ طریقے سے اپنی پسند کی نمبر پلیٹ حاصل کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے ‘من پسند نمبر پلیٹس’ کی نیلامی کا یہ سلسلہ آئندہ بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری رہے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور شفافیت کا یہ نظام مزید مضبوط ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایکسائز عبدالحلیم خان میں منفرد نمبر پلیٹ من پسند نمبر پلیٹس محکمہ ایکسائز ڈی جی ایکسائز والے شہری کی نیلامی کہا کہ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔