بھارت بھر میں کشمیری تاجروں اور شال فروشوں پر تشدد کا بڑھتا رجحان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بارہا بھارت بھر میں کشمیریوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور تشدد پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف حملوں اور ہراسانی کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ ملک بھر میں عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے اور ایسے واقعات میں ریاستی سطح پر مناسب ردِعمل کی ضرورت ہے، کشمیری تاجروں اور لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی
بھارت کے محلوں اور محلوں کی گلیوں، بازاروں اور سیاحتی مقامات پر کشمیری شال فروش، قالین و دستکاری کے تاجر اور پھیری والے برسوں سے ایک روایت کے تھت محنت کی کمائی کے سہارے زندگی گزارتے آئے ہیں۔ مگر حالیہ برسوں میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیری تاجروں یا پھیری والوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات نے اس روایت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ تشدد محض چند افراد پر حملہ نہیں بلکہ یہ روزگار، نقل و حرکت اور وقارِ انسانی پر حملہ ہے۔ شال بیچنے والے ہوں یا سڑک کنارے کشمیری دستکاری کی نمائش کرنے والے، اکثر کشمیری تاجر موسمی کاروبار کے لئے ایک ریاست سے دوسری ریاست کا رخ کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ متبادل راستے ہیں نہ بڑے وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں مضبوط سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی نفرت انگیزی یا تشدد ان کے لئے جان و مال کے خطرات پیدا کر دیتا ہے۔
حالیہ دنوں بھارتی ریاست اتراکھنڈ و ہریانہ میں شال فروش پر حملے
ایک 18 برس کے کشمیری شال فروش جس کا نام تابش احمد بتایا گیا، اپنے کزن کے ساتھ دہرامپور کے ویکاس نگر علاقے میں شال بیچ رہا تھا جب ایک گروپ نے ان سے ان کی شناخت اور مذہب پوچھا۔ جب اس نے بتایا کہ وہ مسلمان اور کشمیر سے ہے تو اس شدت پسند گروپ نے اس پر لوہے کی سلاخوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا، سر اور بازو پر شدید زخم آئے اور بازو ٹوٹ گیا۔ ریاست ہریانہ میں ایک کشمیری شال فروش کو فتح آباد ضلع میں مبینہ طور پر روک کر اسے "بھارت ماتا کی جے" اور "ون دے ماترم" جیسے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ جب انہوں نے ان نعرے نہیں لگائے تو انہیں گلے سے پکڑ کر دھکا دیا گیا اور دھمکایا گیا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے اور تاجر تنظیموں نے اس کی مذمت کی ہے۔ مسوری شہر میں بھی تاجروں کی بیدخلگی عمل میں لائی گئی۔ گزشتہ برس تقریباً 20 کشمیری تاجروں کو، جو مسوری میں سالانہ موسمی کاروبار کرتے تھے، شدید احتجاج اور دباؤ کے بعد واپس کشمیر جانے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے اپنی قیمتی اشیاء اور سامان وہیں چھوڑ دیا تھا۔ یہ واقعات مختلف ریاستوں میں وقوع پذیر ہوئے ہیں اور ان میں زخمی ہونے، ہراسانی، زبردستی جذباتی نعرے لگوانے اور کاروبار چھوڑنے پر مجبور کیا جانا شامل ہے۔
نہ صرف جسمانی تشدد بلکہ نفسیاتی اور سماجی دباؤ بھی
مسئلہ صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں۔ ہراسانی، دکانیں بند کروانے کا دباؤ، کرایہ داروں کی بے دخلی، پولیس کے غیر ضروری سوالات اور سماجی بائیکاٹ جیسے رویے بھی اسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ ان سب کا مشترکہ نتیجہ خوف و دباو کی فضا ہے، جس میں ایک محنت کش فرد اپنے خاندان کے لئے رزق کمانے کے حق سے محروم ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کیوں کیا جارہا ہے۔؟ سیاسی کشیدگی، قومی سلامتی کے نام پر عمومی بدگمانی اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات نے سماج میں عدم برداشت کو بڑھایا ہے۔ مگر کسی خطے یا شناخت کو اجتماعی سزا دینا کا نہ اخلاقی جواز ہے اور نہ آئینی جواز۔ بھارت کا آئین بظاہر ہر شہری کو برابری، تحفظ اور آزادانہ روزگار کا حق دیتا ہے۔ ان حقوق کی خلاف ورزی ریاستی ناکامی بھی ہے اور سماجی زوال بھی۔ بھارتی میڈیا بھی اس میں برابر کا شریک ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سنسنی خیزی کے بجائے حقائق، انسانی کہانیاں اور قانونی پہلو سامنے لائے جائیں۔ ایک شال فروش کی کہانی محض کاروبار کی نہیں، یہ تعلیم، علاج اور عزتِ نفس کی کہانی ہوتی ہے۔ جب یہ کہانیاں غیرجانبداری سے بیان ہوں گی تو نفرت کے بیانیے کمزور پڑیں گے۔
شہری سماج اور عام لوگوں کے لئے بھی یہ خود احتسابی کا لمحہ ہے۔ کیا ہم محض شناخت کی بنیاد پر کسی کو مشکوک ٹھہرا دیتے ہیں۔ کیا ہم خاموش رہ کر ناانصافی کے شریک بن جاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ معاشرے وہی مضبوط ہوتے ہیں جو اختلاف کے باوجود انسانیت کو مقدم رکھتے ہیں۔ آخر میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کشمیری تاجروں کے لئے اور کوئی راستہ میسر نہیں ہے جہاں وہ جا کر تجارت کرتے۔ ان پر ہاتھ اٹھانا، ان کی روزی چھیننا، یا انہیں خوفزدہ کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ حل قانون کی بالادستی، سماجی ہم آہنگی اور باہمی احترام میں ہے۔ اگر بھارت واقعی اپنی تکثیریت پر نازاں ہے تو اسے بازاروں اور محلوں کی گلیوں میں بھی اس کا ثبوت دینا ہوگا، جہاں شال کی گرمائش نفرت کی سردی کو مات دے سکے۔
درایں اثنا جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بارہا بھارت بھر میں کشمیریوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف حملوں اور ہراسانی کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ ملک بھر میں عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے اور ایسے واقعات میں ریاستی سطح پر مناسب ردِعمل کی ضرورت ہے۔ محبوبہ مفتی نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کی حکومت ایک وزارتی ٹیم مختلف ریاستوں میں بھیجے تاکہ وہاں کشمیری تاجروں اور لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے، خاص طور پر اُن ریاستوں میں جہاں حملے زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں جیسے ہماچل پردیش، ہریانہ اور اُتراکھنڈ۔ ان کا مؤقف ہے کہ صرف ایک واقعے پر ردِعمل سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ریاستی اور انتظامی سطح پر مستقل نگرانی اور تحفظ کی گارنٹی دینا ضروری ہے، تاکہ کشمیری تاجروں کو اپنے کاروبار اور روزگار کے مواقع بغیر خوف کے حاصل ہوں۔
ساتھ ہی ساتھ جموں و کشمیر کے موجودہ وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے بھی ایسے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے، خاص طور پر جب کشمیری طلبہ، تاجروں اور باشندوں کو مختلف جگہوں پر ہراساں یا گرفتار کرنے کی رپورٹس سامنے آئیں۔ اُنہوں نے زور دیا ہے کہ تشدد یا ہراسانی کے ہر واقعے میں معصوم لوگوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیئے اور ریاستی اور مرکزی سطح پر ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیئے جہاں تمام شہری اپنے قانونی حقوق اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ایک موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ تشدد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیئے مگر ساتھ ہی بے گناہوں کو تذلیل یا سائیڈ لائن نہ کیا جائے، تاکہ عوام اور ریاست کے درمیان کوئی دوری پیدا نہ ہو۔
حریت کانفرنس کے سینیئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی خاص طور پر کشمیری شال فروشوں اور تاجروں پر حملوں کو نہ صرف تشویشناک بلکہ ایک بڑھتے ہوئے رجحان قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر واضح طور پر کہا کہ اتراکھنڈ میں شال فروشوں کے خلاف حملہ اور پولیس کی مبینہ عدم حفاظت قابلِ افسوس ہے اور ایسے واقعات بھارت بھر میں کشمیریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے رویے کی علامت ہیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے مزید کہا کہ ہزاروں کشمیری شہری مختلف ریاستوں میں محنت مزدوری، کاروبار اور تعلیم کے لئے جاتے ہیں اور ایسے واقعات ان کے لئے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ نفرت انگیز بیانیوں اور غلط اطلاعات سے گریز کریں اور کشمیریوں کے تحفظ کے لئے مشترکہ کوشش کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت بھر میں کشمیری مختلف ریاستوں میں کشمیریوں کے خلاف اور ایسے واقعات کشمیری شال فروش کشمیری تاجروں تاجروں اور ہراسانی کے کہ کشمیری انہوں نے کے لئے ہے اور
پڑھیں:
یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
اسامہ ملک : یکم جون سے لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز کا معاملہ،پہلے دن کتنے شہری کیمرے کی نظر میں آئے؟ کتنے چالان ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی۔
کراچی شہر میں لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان سسٹم کے آغاز کے پہلے ہی دن مجموعی طور پر 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تمام چالان میٹروپول سے ایئرپورٹ جانے اور آنے والی مرکزی سڑک پر کیمروں کی مدد سے کیے گئے، پہلے دن مجموعی طور پر 11 مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں کو خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اعداد و شمار کے مطابق بڑی بسوں کے 2، کوسٹر کے 2، ڈبل کیبن کا 1 اور عام گاڑیوں کے 9 چالان کیے گئے، اسی طرح منی بس کے 6، منی ٹرک کے 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان بھی جاری ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ موٹرسائیکل کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن کے 43 چالان کیے گئےجبکہ ٹرک کے 3، وین کے 4 اور واٹر ٹینکر کے 2 چالان بھی شامل ہیں۔
تمام چالان اس بنیاد پر کیے گئے کہ گاڑیاں اپنی مقررہ لین چھوڑ کر دوسری لین میں چل رہی تھیں، مزید یہ بھی سامنے آیا کہ فرسٹ لین میں کم رفتار سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کا سامنا کرنا پڑا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات