سرکاری وسائل ضائع؛ گورنمنٹ نوکری نہ ملنے پر نرسیں بیرون ملک روانہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سندھ میں سرکاری اسپتالوں میں قائم سرکاری و نجی نرسنگ کالجز و اسکول سے سرکاری ماہانہ اعزازیہ پر پانچ سالہ تعلیم و تربیت مکمل کرنے والی نرسز (میل اور فیمیل) کی اکثریت کو سرکاری ملازمت نہیں مل پاتی جس کی وجہ سے تربیت یافتہ نرسز ملازمت کے لیے بیرون ملک کا رخ کررہی ہیں۔
سندھ کے سرکاری و نجی نرسنگ کالجز و اسکول سے ہر سال تقریباً1500 نرسز 4 سالہ تعلیم اور ایک سالہ ہاوس جاب مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوتے ہیں جن میں سے 400 سے 500 نرسز کو سرکاری اسپتالوں میں ملازمت مل جاتی ہے۔
ایکسپریس ٹریبون کی تحقیق کے مطابق سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں قائم سرکاری و نجی نرسنگ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا پر ماہانہ اعزازیے کی مد میں حکومت سالانہ ساڑھے 16 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے اور پانچ سال کے دوران کے یہ اعزازیہ تقریباً 82 کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں نرسز کی صرف پانچ ہزار اسامیاں ہیں۔
ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق ہر سال فارغ التحصیل نرسوں میں سے اکثریت کو صوبہ سندھ کے صحت کے مراکز میں ملازمت نہیں مل پاتی جس کی وجہ سے ان کی اکثریت ملازمت اور پرکشش مراعات کے لیے غیر ممالک کا رخ کرتی ہے۔ اس طرح صوبہ سندھ اور پاکستان ان تعلیم یافتہ نرسز کی خدمات سے محروم ہوجاتا ہے جن پر سرکاری خزانے سے بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں بستروں کی تعداد کے اعتبار سے نرسوں کی اسامیاں میں اضافہ کرے تاکہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے۔
تحقیق کے مطابق صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے مقابلے میں نرسز کی تعداد خاصی کم ہے، سرکاری اسپتالوں کے جنرل وارڈ میں ایک نرس کو 12 سے 15 مریضوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے جبکہ آئی سی یو میں کام کرنے والے نرس کو چھ سے زائد مریضوں دیکھنا پڑتا ہے۔
ریسرچ رپورٹ کے مطابق اس وقت سرکاری اسپتالوں میں 15 ہزار نرسوں کی قلت ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں کوئی نرسنگ یونیورسٹی موجود نہیں جبکہ حکومت سندھ نے صوبے میں نرسوں کی قلت کو دور کرنے کے لیے سرکاری نرسنگ اسکولوں میں پہلی بار ایوننگ نرسنگ کورس کا آغاز کیا ہے۔ اس وقت صوبے کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں 21 نرسنگ اسکول جبکہ 80 سے زائد پرائیویٹ نرسنگ اسکول قائم ہیں، ہر سال سرکاری نرسنگ اسکولوں میں 70 سے 80 طلباوطالبات کو داخلے دیے جاتے ہیں جبکہ ایک پرائیویٹ نرسنگ اسکول میں 50 داخلے ہوتے ہیں۔
سرکاری و نجی نرسنگ اسکولوں میں داخلے لینے والے طلباو طالبات کو محکمہ صحت حکومت سندھ کی جانب سے 30 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ اس وقت سرکاری نرسنگ اسکول سے سالانہ 1500 سے زائد نرسیں جبکہ 80 پرائیوٹ نرسنگ اسکولوں سے سالانہ 4000 نرسیں پاس آوٹ ہورہی ہیں۔ اس طرح صوبے میں سالانہ 5500 نرسزتیار کی جارہی ہیں جنہیں محکمہ صحت کی جانب سے 30 ہزار روپے فی نرس ماہانہ اعزازیہ دیا جارہا ہے۔
اس طرح محکمہ صحت ایک سال میں نرسوں کی تعلیم و تربیت پر 16 کروڑ روپے سالانہ خرچ کررہی ہے۔ اس طرح چار سالہ نرسنگ ڈگری اور ایک سالہ ہاوس جاب کے دوران حکومت سندھ نرسوں پر 82 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے لیکن حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سرکاری سطح ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے یہ نرسیں بیرون ملک ملازمت کے لیے چلی جاتی ہیں جس سے حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ صحت کے پاس نرسوں کی اسامیوں کی تعداد صرف 5000ہے جبکہ سالانہ 5500 نرسیں تیار کی جارہی ہیں۔
ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین اعجاز کلہری نے بتایا کہ صوبے سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے مسلسل دباؤ کے پیش نظر مزید 15 ہزار نرسوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے اسپتالوں میں ڈاکڑوں اور نرسوں کا غیر مساوی نظام قائم ہے۔ نرسوں کو سرکاری ملازمت نہ ملنے کی وجہ ہماری نرسیں گلف اور یورپی ممالک جارہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سرکاری سطح کی تعلیم و تربیت دینے والی نرسوں کی ملازمتوں کو یقینی بنایا جائے۔
سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد نرسنگ کالج کے پرنسپل ارشاد عباسی نے بتایا کہ صوبے میں نرسوں کی قلت کے پیش نظر وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایت پر پہلی بار نرسوں کی ایوننگ کلاسس شروع کردی گئی ہیں جس کے بعد صوبے میں تربیت یافتہ نرسوں کی قلت ختم ہوجائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ کے سرکاری اسپتالوں سرکاری اسپتالوں میں سرکاری و نجی نرسنگ نرسنگ اسکولوں نرسوں کی قلت نرسنگ اسکول کی وجہ سے کے مطابق کی تعداد کے لیے صحت کے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو