Islam Times:
2026-06-02@23:38:10 GMT

سب ٹرمپ کے خلاف

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

سب ٹرمپ کے خلاف

اسلام ٹائمز: امریکہ کی ریاست منیسوٹا میں وفاقی امیگریشن فورس کے ہاتھوں دوسرے امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد ریپبلکن پارٹی کے کئی اہم سیاسی رہنماوں اس واقعے کی درست اور ہمہ جہت تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ دراصل ایک انتباہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے امیگریشن سے متعلق سخت رویے کے خلاف عوامی ردعمل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی حلقوں نے امریکی پولیس کے ہاتھوں شہریوں کے ہولناک قتل پر مبنی حالیہ واقعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے لیکن ریاست منیسوٹا کے ڈیموکریٹک گورنر ٹیم والز نے وفاقی ایجنسیوں پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحقیقات ریاستی ایجنسیوں کے ذریعے انجام پائیں گی۔ دوسری طرف ایوان نمائندگان میں بھی سیاسی کشمکش اور ٹکراو اپنے عروج پر ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
امریکہ کی وفاقی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ایلکس پرٹی کے قتل کے بعد، سابق امریکی صدور براک اوباما اور بل کلنٹن نے امریکیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں وائٹ ہاؤس کے آمرانہ طرز عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ ایک بیان میں براک اور میشل اوباما نے ایلکس پرٹی کی موت کو "دل دہلا دینے والا سانحہ" قرار دیا۔ کلنٹن کے خاندان نے بھی سوشل میڈیا پر منیاپولس میں ہونے والے واقعات کو "خوفناک" قرار دیا ہے۔ امریکہ کے 42 ویں صدر نے کہا: "ہم سب، جو امریکی جمہوریت کے وعدے پر یقین رکھتے ہیں، ان کا فرض ہے کہ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے موقف کا کھل کر اظہار کریں اور ثابت کر دیں کہ ہماری قوم اب بھی ہماری یعنی عوام کی ہے۔" یاد رہے ریاست منیسوٹا میں عوامی احتجاج اور مظاہروں کا آغاز چند ہفتے قبل ہوا تھا۔
 
اس عوامی احتجاج کی بنیادی وجہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ فورس کے اہلکاروں کی جانب سے ایک امریکی شہری رینی گوڈ کو براہ راست گولی مار کر قتل کر دینا تھا جس کے بعد بھی امریکی پولیس کا شدت پسندانہ رویہ جاری رہا اور ایک اور امریکی شہری ایلکس پرٹی کو بھی بے دردی سے قتل کر دیا۔ امریکی پولیس کے ان جرائم نے امریکی حکومت کی ان دوغلی اور منافقانہ پالیسیوں سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے جس کے تحت امریکی حکمران انسانی حقوق اور آزادی کے نام پر ایران میں امریکی صیہونی دہشت گردوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ امریکہ ایک طرف ایران میں سرگرم دہشت گردوں اور فسادیوں کو ہر قسم کی سیاسی، مالی اور حتی فوجی مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف اپنی ہی عوام کے پرامن احتجاج کا جواب گولیوں سے دے رہا ہے۔
 
وفاقی حکومت پر عدم اعتماد کا بڑھتا رجحان
امریکہ کی ریاست منیسوٹا میں وفاقی امیگریشن فورس کے ہاتھوں دوسرے امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد ریپبلکن پارٹی کے کئی اہم سیاسی رہنماوں اس واقعے کی درست اور ہمہ جہت تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ دراصل ایک انتباہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے امیگریشن سے متعلق سخت رویے کے خلاف عوامی ردعمل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی حلقوں نے امریکی پولیس کے ہاتھوں شہریوں کے ہولناک قتل پر مبنی حالیہ واقعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے لیکن ریاست منیسوٹا کے ڈیموکریٹک گورنر ٹیم والز نے وفاقی ایجنسیوں پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحقیقات ریاستی ایجنسیوں کے ذریعے انجام پائیں گی۔ دوسری طرف ایوان نمائندگان میں بھی سیاسی کشمکش اور ٹکراو اپنے عروج پر ہے۔
 
ڈیموکریٹ پارٹی کے سیاسی رہنماوں نے اپنی حریف جماعت پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں سینیٹ اپوزیشن لیڈر، چاک شومر نے اعلان کیا کہ ڈیموکریٹس کسی ایسے بجٹ کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے فنڈز شامل ہوں۔ ریاست منیسوٹا کے اٹارنی جنرل نے بھی شہریوں کو گولی مارنے کے مقدمے کی عدالتی سماعت میں کہا: "وفاقی فورس کی تعیناتی نے اپنے باشندوں کی صحت اور بہبود کے تحفظ پر مبنی ریاست کے حکومتی حق کی خلاف ورزی کی ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "اس معاملے میں وائٹ ہاؤس کے اختیار کو اس طرح استعمال نہیں کیا جانا چاہئے جس سے ریاستی حکومت کو اس کے فرائض سے محروم کیا جائے۔" ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف سامنے آنے والے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر 2026ء کے الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کو بہت بری شکست ہونے والی ہے۔
 
وائٹ ہاؤس کا دوہرا معیار
ٹرمپ انتظامیہ نے منیاپولس میں امیگریشن فورس کے اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون پر "اندرونی دہشت گردی" کا الزام عائد کیا ہے۔ وفاقی حکومت بھی ایک قسم کے نیم استعماری استثنا کا مطالبہ کر رہی ہے، جیسا کہ نائب صدر جے ڈے وینس نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ منیسوٹا میں امیگریشن فورس کو کسی بھی ریاستی استغاثہ سے مکمل استثنا حاصل ہونا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس ہمیشہ آمرانہ طرز عمل کی طرف مائل رہا ہے اور ایران کے خلاف اس کے سامراجی مفادات نے اسے فسادیوں اور دہشت گرد عناصر کی جانبداری کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر موساد کے دہشت گردوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے فسادیوں پر زور دیا کہ وہ آگ لگاتے رہیں۔ ساتھ انہوں نے ان دہشت گردوں کو یہ امید بھی دلائی عنقریب امریکہ کی جانب سے مدد آنے والی ہے۔
 
نیویارکر کے مطابق ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وِیٹکاف نے ایران کے مفرور ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی سے ملاقات کی لیکن وائٹ ہاؤس کو معزول شہزادے کی شخصیت موثر محسوس نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ایک دوستانہ انداز والے شخص لگتے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ ایران کے اندر ان کا کتنا اثرورسوخ ہے۔ منی پولس میں عوامی احتجاج پھیل جانے کے بعد وائٹ ہاؤس کا ردعمل زیادہ جبر کا رہا ہے۔ امریکی صدر کی جلدبازی کا منظر یہ ہے کہ اس نے جمعرات کے روز حتی اس بات کا بھی اعلان کر دیا کہ "بغاوت ایکٹ" کے تحت وسطی مغربی علاقے میں وفاقی فوج بھیج دی جائے گی۔ اس قسم کے تمام رویوں کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کی آڑ میں دوسروں پر اپنے دوغلے اور من پسند دوہرے معیار مسلط کرنے کے درپے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امیگریشن فورس ریاست منیسوٹا امریکی پولیس امریکی شہری منیسوٹا میں تحقیقات کا امریکی صدر کی جانب سے امریکہ کی کے ہاتھوں وائٹ ہاؤس نے امریکی فورس کے ٹرمپ کے کے خلاف کے بعد رہا ہے کیا ہے دیا ہے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد